یہ فیصلہ مشرقِ وسطی میں تشدد کے خاتمے کے لیے اہم قدم ،آسٹریلوی وزیر اعظم
نیوزی لینڈ نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور شروع کر دیا: وزیر خارجہ
کینبرا،آکلینڈ(آئی این پی )برطانیہ اور کینڈا کے بعد آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے ۔آسٹریلیا کے وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے اعلان کیا ہے کہ آسٹریلیا ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ دو ریاستی حل کے فروغ اور مشرقِ وسطی میں تشدد کے خاتمے کے لیے اہم قدم ہے۔انتھونی البانیز کے مطابق، فلسطینی اتھارٹی نے اس فیصلے کے بدلے کئی وعدے کیے ہیں، جن میں حماس کو مستقبل کی ریاست سے الگ رکھنا، اسرائیل کے پرامن وجود کو تسلیم کرنا، غیر مسلح ہونا، عام انتخابات کرانا، شہدا و قیدیوں کے خاندانوں کو ادائیگیاں ختم کرنا، گورننس میں اصلاحات، تعلیمی و مالی شفافیت، اور عالمی نگرانی کی اجازت شامل ہیں تاکہ نفرت اور تشدد کی ترغیب روکی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ موقع فلسطینی عوام کو اس انداز میں حقِ خود ارادیت دینے کا ہے جو حماس کو مکمل طور پر خطے سے باہر کر دے۔ اس فیصلے کو عرب لیگ کے حالیہ مطالبے سے بھی تقویت ملی ہے جس میں حماس سے کہا گیا تھا کہ وہ غزہ میں حکمرانی چھوڑ کر ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرے۔ ادھر نیوزی لینڈ نے بھی ستمبر میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور شروع کر دیا۔نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے پر غور کر رہے ہیں، وزیر اعظم کرسٹوفر لکسن کی کابینہ ستمبر میں باضابطہ فیصلہ کرے گی۔کیوی وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔