پاکستان جلد فوج فلسطین بھیجنے کا فیصلہ کرے گا اسحاق ڈار
ایک جامع جنگ بندی معاہدہ کی تیاری اور انسانی بنیادوں پر سامان کی تقسیم و فراہمی کیلئے بھرپور تعاون کیا جائے گا،
جبری انخلاء روکنے اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کیلئے بھی یہ تعاون میسر رہے گا:مشترکہ اعلامیہ
انڈونیشیا نے20 ہزارفوجی فلسطین بھیجنے کی پیشکش کی ہے‘امریکہ نے جو 21 نکات جاری کئے ہیں انہیں من و عن تسلیم نہیں کیا گیا‘ پاکستان نے اس میں ترامیم کی ہیں‘ہماری ترامیم شامل نہیں ہیں تو شامل ہونی چاہییں
8 ممالک نے واضح کیا ہے مغربی کنارے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، فلسطین نے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور کچھ لوگ اس پر تنقید کررہے ہیں، یہ لوگ اپنی سیاست کیلئے تنقید کررہے ہیں خدا کا خوف کریں:اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس
یروشلم ‘جدہ‘اسلام آباد(آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو امریکی دورے پر واشنگٹن پہنچے تھے جہاں انھوں نے صدر ٹرمپ کے غزہ کے 20 نکاتی امن منصوبے پر پریس کانفرنس میں علی الاعلان اتفاق کیا تھا۔تاہم مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے وطن پہنچتے ہی اپنے مقف سے پیچھے ہٹ گئے۔اسرائیلی وزیراعظم نے یوٹرن لیتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی ریاست کے قیام پر ٹرمپ سے کوئی اتفاق نہیں کیا اور نہ ہی یہ بات کسی معاہدے میں درج ہے۔نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ ہم نہ صرف فلسطینی ریاست کی سختی سے مخالفت کریں گے بلکہ اسرائیلی فوج بھی غزہ کے بیشتر حصوں میں غیر معینہ مدت تک موجود رہیں گی۔اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان نے سب کو حیران کردیا ہے‘دریں اثنائپاکستان، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ نے امریکی صدر کی غزہ جنگ بندی کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔مسلم ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں صدر ٹرمپ کے اس مجوزہ منصوبے کو سراہا گیا جس میں غزہ کی تعمیر نو، فلسطینی عوام کی جبری بے دخلی کی روک تھام، جنگ بندی اور ایک جامع امن عمل کو آگے بڑھانے کا اعلان شامل ہے۔اعلامیے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ مغربی کنارے کے انضمام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اعلامیہ میں وزرائے خارجہ کی جانب سے کہا گیا کہ وہ امریکا اور دیگر فریقین کے ساتھ مثبت اور تعمیری انداز میں بات چیت کے لئے تیار ہیں تاکہ معاہدے کو حتمی شکل دی جا سکے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے جس کے نتیجے میں خطے کے عوا م کیلئے امن، سلامتی اور استحکام ممکن ہو۔اعلامیے میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ امریکا کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لئے ایک جامع معاہدے پر کام کیا جائے گا‘علاوہ ازیںنائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے انڈونیشیا نے 20 ہزار فوجی فلسطین بھیجنے کی پیشکش کی ہے، امید ہے پاکستان بھی فلسطین فوج بھیجنے کا فیصلہ کرے گا‘اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں انہوں نے کہا امریکہ نے جو 21 نکاتی ڈاکیومنٹس جاری کیے ہیں اسے من و عن تسلیم نہیں کیا گیا پاکستان نے اس میں ترامیم کیں، ابھی جو ڈاکیومنٹس ہیں وہ امریکہ نے جاری کیے ہیں ہماری ترامیم شامل اگر نہیں ہیں تو شامل ہونی چاہییں۔ انڈونیشیا نے 20 ہزار فوجی فلسطین بھیجنے کی پیشکش کی ہے، امید ہے پاکستان بھی فلسطین فوج بھیجنے کا فیصلہ کرے گا، ہم فلسطین سے اسرائیل کے مکمل انخلا کے لیے پرعزم ہیں، منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فورس تعینات ہوگی اور فلسطین کے امن بورڈ میں زیادہ تر فلسطینی حکام شامل ہوں گے۔ پاکستان کی پالیسی بالکل واضح ہے، وزیراعظم نے اسمبلی اجلاس میں اسے ہی دہرایا ہے، سارک ممالک بھی ہمارے اس پالیسی میں ہمارے ساتھ ہیں، مشرف کی پالیسی پر میں کوئی تنقید نہیں کرنا چاہتا وہ اب دنیا سے رخصت ہوچکے مناسب نہیں کہ ان پر بحث کی جائے۔ 8 ممالک نے واضح کیا ہے کہ ویسٹ بینک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، فلسطین نے آٹھ ممالک کے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور کچھ لوگ اس پر تنقید کررہے ہیں، یہ لوگ اپنی سیاست کے لیے تنقید کررہے ہیں خدا کا خوف کریں، کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ وہاں خون بہتا رہے، بچے اور خواتین مرتے رہیں؟