کاروباری اداروں کا سابق حکومت کے مقابلے میں موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اظہار اعتماد‘مستقبل کے بارے میں 61فیصد کاروباری ادارے پر امید ہیں:گیلپ سروے

کاروباری برادری سے مشاورت کا دائرہ وسیع کرینگے اصلاحات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا شروع ہو گئے شہبازشریف
گیلپ سروے کے نتائج کاروباری برادری کے ملک کی سیاسی و اقتصادی صورت حال میں استحکام کے عکاس ہیں ، حکومتی اقدامات اور اصلاحاتی ایجنڈے کی بدولت  سسٹم میں  شفافیت آئی ہے اور تاجر برادری کے لئے آسانیاں پیدا ہوئی ہیں
حکومت ملک میں کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے لئے مزید سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے ‘ہر دن بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریئے بہترین معاشی پالیسیوں، کرپشن و رشوت میں کمی اور شفافیت کا ثبوت ہیں:وزیراعظم
پہلا انٹرو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستانی کاروباری برادری  کا اعتماد 4سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، گیلپ پاکستان نے پاکستان نے بزنس کانفیڈنس انڈکس رپورٹ جاری کر دی۔گیلپ سروے کی رپورٹ کے مطابق کاروباری اداروں کا سابقہ حکومت کے مقابلے میں موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کیا، مہنگائی، بڑھتے ہوئے توانائی اخراجات اور لوڈ شیڈنگ جیسی مشکلات کے باوجود اعتماد میں بہتری،ملکی سمت کا سکور 2024کی آخری سہ ماہی کے مقابلے میں ڈ بہتر ہوگیا۔اگرچہ یہ سکور اب بھی منفی ہے لیکن 2021کی چوتھی سہ ماہی کے بعد بلندترین سطح پر ہے، کاروباری اعتماد میں اضافہ سیاسی و اقتصادی غیر یقینی صورتحال میں بہتری کو ظاہر کرتاہے ،46فیصد کاروباری اداروں نے  پی ٹی آئی کے مقابلے میں موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اعتماد کیا، ایک سال پہلے حکومتی پالیسیوں پر اعتماد کرنے والوں کی شرح 24فیصد تھی۔رپورٹ کے مطابق 61فیصد کاروباری اداروں نے موجودہ کاروباری آپریشنز کو اچھا یا بہت اچھا قراردیا، خدمات اور تجارتی شعبوں میں نمایاں بہتری آئی ہے ،مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بحالی کی رفتار نسبتاًسست ہے،مستقبل کے بارے میں 61فیصد کاروباری ادارے پر امید ہیں، کاروباری اداروں نے مہنگائی، توانائی اخراجات میں اضافہ اور ٹیکسز کو اہم مسائل قراردیا۔28فیصد نے مہنگائی، 18فیصد نے مہنگے یوٹیلٹی بلزاور 11فیصد نے ٹیکسز کو سب سے اہم مسئلہ بتایا، 47فیصد نے لوڈشیڈنگ کو اہم مسئلہ قرار دیا۔

دوسرا انٹرو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیراعظم شہباز شریف  نے پاکستانی کاروباری اداروں کے ملکی معاشی سمت پر اعتماد کے بارے حالیہ گیلپ سروے بزنس کانفیڈینس انڈیکس  رپورٹ پر اظہار اطمینان کیا ہے۔وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے    گیلپ سروے کے مطابق کاروباری اداروں کا پاکستان کی معیشت پر اعتماد گزشتہ چار سالوں کی بلند سطح پر پہنچ گیا ہے، جو کہ انتہائی خوش آئند ہے، سروے کے مطابق 2024 کی آخری سہ ماہی کے مقابلے میں ملکی معاشی سمت کا سکور منفی 2 پر آگیا ہے جو  2021 کی چوتھی سہ ماہی کے بعد بلند ترین سطح ہے‘   گیلپ سروے کے نتائج کاروباری برادری کے ملک کی سیاسی و اقتصادی صورت حال میں استحکام کے عکاس ہیں ، حکومتی اقدامات اور اصلاحاتی ایجنڈے کی بدولت  سے سسٹم میں جو شفافیت آئی ہے اور تاجر برادری کے لئے آسانیاں پیدا ہوئی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ   حکومت کے ادارہ جاتی اصلاحات کے ایجنڈے، ایف بی آر کی ڈیجیٹایزیشن اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات نے ملک میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لئے نئی راہیں کھولی ہیں، ہر دن بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریے ، بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز میں بہتری حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں، کرپشن و رشوت میں کمی اور شفافیت کا ثبوت ہیں۔انہوں نے کہا   میکرو اکنامک اصلاحات کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، حکومت ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ  حال ہی میں پاکستان اسٹاک ایکسچنج کا 100 انڈیکس 1 لاکھ 47 ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو عبور کر گیا،وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور ان کی معاشی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔وزیر اعظم نے کہا    حکومت ملک میں کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کے لئے مزید سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے اور اس کیلئے کاروباری برادری سے مشاورت کا دائرہ کار مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔