امریکہ میں غیر ملکیوں پر نئی پابندی: ٹرمپ انتظامیہ کا رجسٹریشن اور دستاویزات کا لازمی حکم

امریکہ میں غیر ملکیوں پر نئی پابندی: ٹرمپ انتظامیہ کا رجسٹریشن اور دستاویزات کا لازمی حکم

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ میں غیر ملکیوں کے لیے نئے رجسٹریشن قوانین سے متعلق ہے، جس کا مقصد امیگریشن کنٹرول اور قومی سلامتی کے اقدامات کو مضبوط بنانا تھا۔

 اس کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

کلیدی دفعات:
لازمی رجسٹریشن:

تمام غیر شہری (بشمول گرین کارڈ ہولڈرز، طلبہ، ورکرز، اور عارضی زائرین) جو 30 دن یا زیادہ امریکہ میں رہیں، انہیں بائیومیٹرک ڈیٹا (فنگر پرنٹس سمیت) جمع کروانا ہوگا۔نئے آنے والوں کو فارم G-325A پر آن لائن درخواست دینی ہوگی۔
دستاویزات کا پاس رکھنا:

18 سال یا زیادہ عمر کے غیر ملکیوں کو ہم وقت رجسٹریشن کا ثبوت (جیسے DHS جاری کردہ دستاویز) اپنے پاس رکھنا ضروری ہے۔پولیس یا امیگریشن افسران کسی بھی وقت یہ دستاویزات طلب کر سکتے ہیں۔
بچوں کے لیے ذمہ داری:

14 سال سے کم عمر بچوں کے والدین/سرپرستوں کو ان کی رجسٹریشن کروانی ہوگی۔14 سال کی عمر تک پہنچنے پر 30 دن کے اندر دوبارہ رجسٹریشن ضروری ہے۔
سزائیں:

قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ یا قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
مخصوص گروہوں پر اثر:

کینیڈین شہری (30+ دن ٹھہرنے پر) اور زمین/سمندر کے راستے داخل ہونے والوں کو I-94 داخلہ ریکارڈ بنوانا ہوگا ($6 فیس کے ساتھ)۔صرف چند مخصوص کیٹیگریز (جیسے ڈپلومیٹس) کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
تنازعات اور تنقید:
یہ پالیسی ٹرمپ انتظامیہ کے سخت امیگریشن موقف کا حصہ تھی، جس پر انسانی حقوق کے گروپوں نے تنقید کی تھی کہ یہ تارکین وطن کے خلاف "نگرانی کا نظام" ہے۔قانونی ماہرین نے متنبہ کیا تھا کہ یہ غیر شہریوں کے لیے روزمرہ زندگی مشکل بنا سکتا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے گروہوں کے لیے۔
موجودہ حیثیت:
یہ قوانین ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر (نمبر 14159) کے تحت نافذ ہوئے تھے۔ بعد میں آنے والی انتظامیوں (جیسے بائیڈن) نے کچھ امیگریشن پالیسیوں میں نرمی کی ہے، لیکن رجسٹریشن سے متعلق کچھ دفعات اب بھی لاگو ہو سکتی ہیں۔ غیر ملکیوں کو USCIS کی تازہ ترین ہدایات چیک کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔