خیبرپختونخوا حکومت کے نئے قواعد، سرکاری ملازمین کے غیر ملکیوں سے شادی پر پیشگی اجازت لازمی

خیبرپختونخوا حکومت کے نئے قواعد، سرکاری ملازمین کے غیر ملکیوں سے شادی پر پیشگی اجازت لازمی

خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کے غیر ملکی شہریوں سے شادی کے حوالے سے نئے قواعد جاری کر دیے ہیں، جن کے تحت اب کسی بھی سرکاری ملازم کو ایسی شادی سے پہلے حکومت سے باقاعدہ اجازت لینا لازمی ہوگا۔

نئے قواعد کے مطابق اگر کوئی ملازم پیشگی اجازت کے بغیر غیر ملکی شہری سے شادی کرتا ہے تو اسے سخت محکمانہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں نوکری سے برطرفی بھی شامل ہو سکتی ہے۔ اس اقدام کو سرکاری سطح پر “مس کنڈکٹ” اور پیشہ ورانہ بددیانتی تصور کیا جائے گا۔قواعد میں واضح کیا گیا ہے کہ درخواست دینے والے ملازم کو اپنے ہونے والے جیون ساتھی سے متعلق مکمل دستاویزات، شناختی تفصیلات اور کریکٹر کلیئرنس فراہم کرنا ہوگی۔ یہ تمام معلومات بعد ازاں سکیورٹی کلیئرنس کے لیے محکمہ داخلہ اور قبائلی امور کو بھیجی جائیں گی۔مزید یہ کہ سکیورٹی اور انٹیلیجنس ادارے اس پورے عمل میں مرکزی کردار ادا کریں گے اور غیر ملکی شہری کی شہریت، پس منظر اور اس کے ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

حکومت کے مطابق پہلے سے شادی شدہ سرکاری ملازمین کے کیسز کی بھی دوبارہ جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ قومی مفاد اور سکیورٹی کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات حساس معلومات کے تحفظ اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں، تاہم بعض غیر معمولی حالات میں قواعد میں نرمی کی گنجائش بھی موجود رہے گی۔