ٹرمپ کی دھمکیوں کے سائے میں ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات عمان میں شروع ہوں گے

ٹرمپ کی دھمکیوں کے سائے میں ایران اور امریکا کے جوہری مذاکرات عمان میں شروع ہوں گے

واشنگٹن: ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات آج عمان میں شروع ہوں گے، جو کہ ٹرمپ کی دھمکیوں کے سائے میں ہو رہے ہیں۔

 ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جبکہ امریکی وفد کی نمائندگی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کریں گے۔ عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی ثالث کا کردار ادا کریں گے۔

مذاکرات میں شکوک و شبہات:
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ایران ان مذاکرات میں شدید شکوک و شبہات کے ساتھ شریک ہو رہا ہے، خاص طور پر جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے مسلسل دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک بار پھر امریکا پر زور دیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے فوجی حملے کیے جائیں۔ دوسری جانب ٹرمپ نے بھی دھمکی دی ہے کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر شدید بمباری کی جائے گی۔

وائٹ ہاؤس کی دھمکی:
وائٹ ہاؤس نے جمعہ کو ایک بار پھر ٹرمپ کی دھمکی دہرائی کہ اگر ایران نے اپنا جوہری پروگرام ختم نہ کیا تو "اسے بھاری قیمت چکانا ہوگی"۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے وال اسٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کی "ریڈ لائن" یہ ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ ہو اور جوہری پروگرام کا خاتمہ مذاکرات کی ابتدائی شرط ہے، تاہم انہوں نے مفاہمت کے دوسرے راستوں کے لیے آمادگی کا بھی عندیہ دیا۔

ایران کی جانب سے سفارتکاری کی دعوت:
دوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ ہونے والے اعلیٰ سطحی جوہری مذاکرات کے ذریعے خلوص نیت کے ساتھ سفارتکاری کو ایک حقیقی موقع دے رہا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایکس پر کہا کہ امریکا کو ایران کے مذاکرات میں شامل ہونے کے فیصلے کی قدر کرنی چاہیے، مگر واشنگٹن کا انداز اب بھی جارحانہ اور دھمکی آمیز ہے۔ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تختِ روانچی نے کہا کہ اگر امریکا کی جانب سے دھمکیاں اور دباؤ نہ ہو تو معاہدے تک پہنچنے کے امکانات روشن ہیں، تاہم ایران ہر قسم کی دھونس اور دھمکی کو مسترد کرتا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے ایکس پر لکھا کہ ایران نے اہم اور عملی تجاویز تیار کی ہیں تاکہ منصفانہ معاہدہ ممکن ہو سکے۔

مذاکرات کی نوعیت:
ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ "بالواسطہ مذاکرات" ہوں گے، جن میں عمان ثالثی کرے گا۔ ایران کے مطابق عباس عراقچی مکمل اختیارات کے ساتھ مذاکرات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں، تاہم ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ "براہِ راست مذاکرات" ہوں گے۔

پچھلا جوہری معاہدہ:
یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان سابق صدر باراک اوباما کے دور میں جوہری معاہدہ ہوا تھا، جس سے 2018 میں صدر ٹرمپ نے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ اس کے بعد ایران نے یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کیا، جس سے مغرب کو خدشہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ سکتا ہے، حالانکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا پروگرام مکمل طور پر پرامن توانائی کے حصول کے لیے ہے۔

علاقائی کشیدگی:
اس کے علاوہ، حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ حملے شروع ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان اور شام پر بھی بمباری کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے یمن میں حوثی اہداف پر حملے بھی جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان مذاکرات سے کسی ممکنہ معاہدے کے آثار نظر آئے تو خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔