جنگ کے سائے میں بھی مذاکرات؟ ٹرمپ کا بیان، ایران کا دو ٹوک انکار

جنگ کے سائے میں بھی مذاکرات؟ ٹرمپ کا بیان، ایران کا دو ٹوک انکار

شدید کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ حالیہ فضائی جھڑپوں اور طیارہ گرائے جانے کے واقعات کے باوجود مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا جائے گا اور رابطے کسی نہ کسی سطح پر جاری رہیں گے۔صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال باقاعدہ جنگی کیفیت اختیار کر چکی ہے، اور فوری ردعمل کے بارے میں فیصلہ کرنا قبل از وقت ہوگا، خاص طور پر جب لاپتہ عملے کے رکن کے حوالے سے مکمل معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جانب ایران نے مذاکرات سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایرانی قیادت نے ثالثی کرنے والے ممالک کو پیغام دیا کہ امریکی شرائط کسی صورت قبول نہیں کی جائیں گی۔ ذرائع کے مطابق جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہو چکی ہیں، جس کی بڑی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی بداعتمادی بتائی جا رہی ہے۔

خطے میں عسکری کشیدگی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ جھڑپوں میں امریکی افواج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس میں متعدد طیارے اور ہیلی کاپٹر نشانہ بنے۔ ایک واقعے میں آبنائے ہرمز کے قریب امریکی اے-10 طیارے کو مار گرایا گیا، تاہم پائلٹ محفوظ رہا۔ایرانی اسپیکر نے صورتحال پر طنزیہ انداز میں کہا کہ امریکا اب حکومت کی تبدیلی کی باتوں سے پیچھے ہٹ کر اپنے پائلٹ کی تلاش میں مدد مانگ رہا ہے، جو بدلتے ہوئے حالات کی عکاسی کرتا ہے۔