رضا اللہ کی تیز رفتاری کے باوجود کارکردگی پر سوالات، 23 اوورز میں 148 رنز دے کر 4 وکٹیں

رضا اللہ کی تیز رفتاری کے باوجود کارکردگی پر سوالات، 23 اوورز میں 148 رنز دے کر 4 وکٹیں

انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں پاکستان کے نوجوان فاسٹ بولر رضا اللہ نے شاندار رفتار کے ساتھ آغاز کیا، تاہم دوسرے روز ان کی کارکردگی میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا جس نے پاکستانی ٹیم کے لیے کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

دوسرے روز رضا اللہ نے پہلی گیند 85 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے کرائی جو شارٹ آف لینتھ ہو کر ڈین لارنس کے دائیں کندھے کے قریب سے گزری۔ اگلی گیند کی رفتار 87 میل فی گھنٹہ رہی، جبکہ اوور مکمل ہونے سے قبل وہ 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار بھی چھو چکے تھے۔تاہم دن آگے بڑھنے کے ساتھ رضا اللہ کی رفتار، لائن اور لینتھ میں واضح کمی آتی گئی۔ انہوں نے مجموعی طور پر 23 اوورز کرائے اور 148 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ان کا اکانومی ریٹ 6.43 رہا۔انگلینڈ کے ٹیل اینڈرز نے بھی رضا اللہ کی گیندوں پر کھل کر رنز بنائے، جس سے ان کی بولنگ پر مزید سوالات اٹھے۔رضا اللہ کی کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غیر معمولی رفتار پیدا کرنے کے ساتھ اسے طویل اسپیلز میں برقرار رکھنا اور درست لائن و لینتھ کے ساتھ استعمال کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔