فضل الرحمن،سہیل آفریدی کاجماعت اسلامی کی حمایت کااعلان

 اسلام آباد،لاہور(اپنیرپورٹرسے،سیاسی نمائندہ ،مانیٹرنگ ڈیسک )جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پٹرولیم لیوی کے معاملے پر مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے، حکومت نے جماعت اسلامی سے مزید 3 دن کا وقت مانگ لیا۔ذرائع کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ تین دن مزید اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کال نہ دے۔ حکومتی وفد سے مذاکرات کیلئے جماعت اسلامی کا وفد نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں پنجاب ہا ئوس پہنچا، حکومتی مذاکراتی ٹیم کی قیادت وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔حکومتی ٹیم میں رانا ثناء اللہ، وزیرپٹرولیم علی پرویز ملک اور بلال اظہر کیانی شامل تھے۔ مذاکراتی دور کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رہنما جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ پنجاب ہا ئوس میں حکومتی کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور ہوا، ہم نے مذاکرات میں کہا کہ پٹرولیم لیوی ختم ہونی چاہیے۔ ہم نے مذاکرات میں حکومت کو 6 نکات پر مشتمل م ئوقف پیش کیا، حکومتی کمیٹی کے پاس ایسے دلائل نہیں تھے کہ ہمارے م ئوقف کو رد کر سکیں۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ، لیوی بھتہ ختم کیا جائے، وزیر اعظم نے پٹرولیم مصنوعات پر الگ سے کمیٹی بنائی ہے پیر کو اجلاس ہوگا، آئی پی پیز ٹاسک فورس کے ساتھ بھی میٹنگ ہوگی۔ حافظ نعیم الرحمن اسلام آباد مارچ کی کال دیں گے، حکومتی وفد نے کہا کہ ہم بھی عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، اگر ریلیف نہیں دیا جائے گا تو دھرنے جاری رہیں گے۔دوسری طرف امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ٹیلی فونک رابطہ کیااور اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے پٹرولیم لیوی، مہنگائی اور عوامی مسائل کے خلاف بھرپور آواز اٹھائیں۔ اس موقع پر مولانا فضل الرحمن نے جماعت اسلامی کی پٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے عوام کے حقیقی مسائل پر آواز اٹھانے کی جدوجہد کو قابلِ تحسین قرار دیا جبکہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے جماعت اسلامی کی جمہوری جدوجہد کو سراہتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پٹرولیم لیوی پر عوام کو ریلیف فراہم کرے۔