سانحہ پمز،اے سی کمپریسر کے پھٹنے، دھماکے کے کوئی آثار نہ ملے

         آگ کے وقت 5 میں سے 2 اے سی یونٹس بجلی کی عدم سپلائی کے باعث غیر فعال تھے
           نرسری کے 2 اے سی کے اندرونی اور بیرونی یونٹس بھی صحیح سلامت تھے، رپورٹ میں انکشاف
اسلام آباد(آئی این پی )اسلا م آباد میں پمزاسپتال کی نیونیٹل نرسری میں آتشزدگی کا معمہ  تاحال   حل نہیں ہو سکا  ۔میڈیارپورٹ کے مطابق پمز شعبہ ایچ ویک انجینئرنگ کی جانب سے تیار کی گئی آگ سے متعلق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ   آگ لگنے کے واقعے کے فورا بعد ایچ ویک انجینئرنگ اسٹاف نے نرسری کے اے سی سسٹم کا تفصیلی معائنہ کیا۔معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ نرسری اور اسٹاف روم میں کل 5 اسپلٹ اے سی یونٹس نصب تھے، جن میں سے چار اے سی 2 ٹن کے جبکہ ایک ڈیڑھ ٹن کا تھا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آگ لگنے کے وقت 5 میں سے 2 اے سی یونٹس بجلی کی عدم سپلائی کے باعث غیر فعال تھے، جبکہ دیگر 2 اے سی بالکل درست حالت میں کام کر رہے تھے۔نرسری کے 2 ایئر کنڈیشنرز میں R-410A ریفریجرنٹ گیس موجود تھی، جو کمپنی کے مطابق مکمل طور پر غیر آتش گیر ہے۔انجینئرنگ رپورٹ کے مطابق آگ لگنے کے واقعے کے بعد بھی تمام 5 ایئر کنڈیشنرز کے کمپریسر بالکل درست اور سالم حالت میں پائے گئے ہیں۔ اے سی کمپریسر کے پھٹنے، دھماکے یا جلنے کے کوئی واضح آثار نہیں ملے۔اس کے علاوہ نرسری کے 2 اے سی کے اندرونی اور بیرونی یونٹس بھی صحیح سلامت تھے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ نرسری کے اے سی یونٹس کی باقاعدگی سے دیکھ بھال اور سروس کی جاتی رہی ہے۔شعبہ ایچ ویک انجینئرنگ نے اے سی کی سروس اور موصول ہونے والی شکایات کی تمام تفصیلات پمز حکام کو فراہم کر دی ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آتشزدگی کا سبب اے سی شارٹ سرکٹ یا دھماکہ نہیں تھا۔