حوثیوں کے حملے سعودی خودمختاری کی خلاف ورزی پاکستان مکہ دفاعی معاہدے کے تقاضوں کو پورا کرے گا دفترخارجہ

سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں، بھارت کے پاکستان میں  دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد ہیں،  بھارت کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا
سہارنپور میں پرانی مسجد مسمار کئے جانے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، یاسین ملک کی صحت کے معاملے پر تشویش ہے‘قانونی ویزا والے افغان طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں
اسلام آباد(آئی این پی ) پاکستان نے  سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے   کہا ہے یہ حملے سعود یہ  خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں ،   سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں، پاکستان سعودی عرب کے اپنے دفاع کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے اور خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کیلئے کوششیں جاری رکھے گا،بھارت کے پاکستان میں  دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں،  بھارت کشمیر کی متنازعہ حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا، کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود حل طلب مسئلہ ہے،  افغانستان پاکستان کا دشمن نہیں، افغان حکومت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو سمجھ نہیں رہی،ہم  افغان عوام کے ساتھ اپنے تعلقات کو دہشت گردی کے مسئلے سے الگ دیکھتے ہیں،قانونی ویزا والے افغان طلبہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں،فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کے اسرائیلی بیانات مسترد کرتے ہیں۔ان خیالات کااظہار  دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے   اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا ۔ترجمان دفترخارجہ نے  واضح کیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا مکہ معاہدہ ایک دفاعی اتحاد ہے اور فی الحال اسے مزید ممالک تک وسعت دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔۔انہوں نے  یاسین ملک کی صحت کے معاملے پر تشویش ہے، پاکستان یاسین ملک کی غیر قانونی قید کی مذمت کرتا ہے،  پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں، ان کے مطابق کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں بھی بھارت کی مبینہ دہشتگرد سرگرمیوں کے شواہد سامنے آئے ہیں۔سجاد حیدر خان نے کہا کہ پاکستان 5 ستمبر کو سہارنپور میں پرانی مسجد مسمار کیے جانے کی سختی سے مذمت کرتا ہے، مذہبی آزادیوں کا احترام ہونا چاہئے اور کسی بھی مذہبی مقام کے خلاف کارروائی قابل مذمت ہے