پی ٹی آئی احتجاج کیس اسلام آباد میں شہریوں کے حقوق سلب نہیں ہو نے دینگے:ہائیکورٹ

 ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کی دلائل کیلئے‘ دو دن  مہلت کی استدعا مسترد‘ ماضی میں خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف کارروائی کا ریکارڈ طلب
 یہ عدالت اسلام آباد میں رہنے والوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے ، اتنی کمزور نہیں  اسے ایک سیاسی جماعت کی ضرورت ہو:چیف جسٹس سرفراز ڈوگر
اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ آج جمعہ کو بھی پی ٹی آئی کے 27 ستمبرکے مجوزہ احتجاج کے خلاف شہری کی درخواست کی سماعت جاری رکھے گی عدالت نے پی ٹی آئی کے 27 احتجاج کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایڈووکیٹ جنرل کے پی کی دلائل کے لیے دو دن کی مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ان سے ماضی میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ریکارڈ طلب کر لیا، تمام صوبوں کے آئی جیز، سیکرٹریز اور دیگر افسران پھر طلب کر لیے، نوٹس جاری کیا گیا کہ جمعہ کو بھی تمام افسران پیش ہوں گے۔جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت اسلام آباد میں رہنے والوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے، عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ اسے ایک سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہو۔چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کی سربراہی  میں جسٹس اعظم خان اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل تین رکنی بنچ نے جمعرات کو سماعت کی۔ اس دوران اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نوید حیات ملک، آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی، موٹروے پولیس، خیبر پختونخوا، پنجاب، سندھ اور بلوچستان پولیس کے نمائندے جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن عدالت میں پیش ہوئے درخواست گزار کے وکیل اختر چھینہ نے گزشتہ سماعت کا عدالتی حکم پڑھ کر سنایا۔چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کو روسٹرم پر بلایا اور کہا کہ تین چار سالوں سے عدالتوں کے فیصلوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے وقت مانگا اور کہا کہ ابھی تک کوئی واقعہ ہوا ہی نہیں جیسا کہا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت اسلام آباد میں رہنے والوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اتنی کمزور نہیں کہ اسے ایک سیاسی جماعت کی حمایت کی ضرورت ہو۔