کٹھمنڈو: نیپال میں حکومت مخالف پرتشدد احتجاج نے سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ مختلف جیلوں سے مجموعی طور پر 13 ہزار 500 قیدی فرار ہوگئے ہیں، جب کہ جھڑپوں کے دوران 3 پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔
نیپالی پولیس کے ترجمان کے مطابق کٹھمنڈو کی دلی بازار جیل سمیت کئی جیلوں میں قیدیوں نے احتجاج اور ہنگامے کے دوران دروازے توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی۔ سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سیکڑوں قیدی جیل سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ فوجی اہلکار انہیں روکنے میں ناکام رہے۔صورتحال قابو سے باہر ہونے پر پولیس نے بیشتر علاقوں سے پسپائی اختیار کر لی اور اب صرف ہیڈکوارٹرز تک محدود ہے۔ دوسری جانب نیپالی فوج نے دارالحکومت میں گشت شروع کر دیا ہے اور لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے عوام کو کرفیو نافذ ہونے کی اطلاع دی جا رہی ہے۔
فوج کے سربراہ جنرل اشوک راج سگڈیل نے عوام سے اپیل کی ہے کہ تشدد اور احتجاج کا راستہ ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آئیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر پابندی کے خلاف شروع ہونے والا نوجوانوں کا احتجاج تیزی سے شدت اختیار کر گیا تھا۔ مظاہرین نے پارلیمنٹ پر دھاوا بولا اور پولیس سے جھڑپوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔صورتحال خراب ہونے پر وزیراعظم کے پی شرما اولی نے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا، لیکن اس کے باوجود مظاہرے ختم نہیں ہوئے اور مشتعل ہجوم نے مختلف سرکاری و نجی عمارتوں پر حملے اور توڑ پھوڑ جاری رکھی۔