سافٹ ویئرز کے ذریعے بینکوں یا اداروں کا نمائندہ ظاہر کرکے دھوکا دہی کی جا رہی ہے
معلومات موبائل آپریٹرز سے نہیں غیر قانونی ویب سائٹس اور ایپس کے ذریعے لیک ہوئیں
اسلام آباد (آئی این پی) ڈیٹا لیکس کے معاملے میں تحقیقات کے دوران چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایک ٹی وی چینل کے مطابق تحقیقات میں پتا چلا ہے کہ ڈیٹا بیچنے والی ویب سائٹس پر نہ صرف صارفین کی ذاتی معلومات فروخت کی جارہی ہیں بلکہ ایسے فراڈ سافٹ ویئر بھی بیچے جا رہے ہیں جنہیں استعمال کرکے کالر کی اصل شناخت چھپائی یا تبدیل کی جا سکتی ہے۔ جرائم پیشہ افراد ان سافٹ ویئرز کے ذریعے خود کو مختلف بینکوں یا اداروں کے نمائندے ظاہر کر کے شہریوں کے ساتھ دھوکا دہی کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں افراد اس نوعیت کے فراڈ کا شکار ہوچکے ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ایک بیان میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے ڈیٹا لیکس معاملے پر وضاحت جاری کی تھی۔