ڈیٹا لیکس سے بچائو کیلئے قومی سطح پر سائبر سکیورٹی آگاہی مہم چلائی جائے گی عطاء تارڑ

مس انفارمیشن  آج کی  دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے ،بغیر کسی ثبوت کے سڈنی حملہ آور کا تعلق پاکستان سے جوڑ دیا گیا‘سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے
سائبر حملوں سے نمٹنے کیلئے سائبر سکیورٹی سینٹر فعال ہیں، سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے، فیک نیوز سے کسی کو بھی جوڑنے کیلئے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا جاتا ہے:تقریب سے خطاب 
اسلام آباد(آئی این پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے کہا ہے  مس انفارمیشن آج کی دنیا کا سب سے بڑا چیلنج ہے، کسی شواہد اور ثبوت کے بغیر سڈنی حملہ آور کا تعلق پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔اسلام آباد میں نیشنل سائبر سکیورٹی کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سائبر سکیورٹی سے متعلق آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے، سائبر حملوں سے نمٹنے کیلئے سائبر سکیورٹی سینٹر فعال ہیں، نیشنل سائبر سکیورٹی پالیسی کو مزید موثر بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ڈیٹا کے تحفظ کیلئے سائبر سکیورٹی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے اقدامات کئے، سائبر حملوں سے بچنے کیلئے آگاہی اورتربیت بہت ضروری ہے، ڈیٹا لیکس سے بچاوء کیلئے قومی سطح پر سائبر سکیورٹی آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ سائبر جرائم کی خلاف کارروائی کے دوران متعدد فیک سوشل میڈیا اکائو نٹس کی نشاندہی ہوئی، سڈنی واقعہ پربغیر ثبوت اورتصدیق کے پافکستان پر الزامات لگائے گئے، پاکستان کو سڈنی واقعہ میں ملوث کرنے کی کوشش کی گئی، سڈنی واقعہ کے بعد فیک نیوز پھیلائی گئیں،، موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا ذمہ دارانہ استعمال ضروری ہے، فیک نیوز سے کسی کو بھی جوڑنے کیلئے مصنوعی ذہانت کا سہارا لیا جاتا  صحافیوں اور میڈیا عملے کے لئے ورکشاپس اور تربیت کے پروگرام ترتیب دیئے جا رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل غلط معلومات کے پھیلائو  کو روکا جا سکے۔