صرف لاہور ہی نہیں، کراچی، فیصل آباد اور پشاور کا بھی ہوا کا مسئلہ ہے:احسن اقبال

صرف لاہور ہی نہیں، کراچی، فیصل آباد اور پشاور کا بھی ہوا کا مسئلہ ہے:احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ فضائی آلودگی صرف لاہور کا نہیں بلکہ کراچی، فیصل آباد اور پشاور جیسے بڑے شہروں کا بھی سنگین مسئلہ بن چکی ہے۔

 ہسپتالوں میں سانس اور پھیپھڑوں کے امراض میں خطرناک اضافہ ہو رہا ہے جو عوامی صحت کے لیے تشویشناک صورتحال ہے۔لاہور میں ماحولیاتی آلودگی کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت اکیلے اسموگ اور انوائرمنٹ کے مسائل کو حل نہیں کر سکتی، اس کے لیے صنعت، عوام اور شہری اداروں کو مل کر کردار ادا کرنا ہوگا۔انہوں نے انکشاف کیا کہ ہر سال تقریباً ایک لاکھ افراد فضائی آلودگی کے باعث قبل از وقت وفات پا جاتے ہیں، جو ایک قومی المیہ ہے۔احسن اقبال نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ ماحولیاتی فنڈ کے 100 ارب ڈالر کے وعدے پورے کریں، اور پاکستان جیسے ممالک کو ماحول دوست ٹیکنالوجی کی منتقلی میں سہولت فراہم کریں۔ان کا کہنا تھا کہ صاف ماحول ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ناگزیر ہے، اور ہمیں فضا کو اس حد تک صاف کرنا ہے کہ لاہور کا نیلا آسمان دوبارہ دکھائی دینے لگے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ حکومت پنجاب اسموگ کنٹرول اسٹریٹیجی اور گرین بلوچستان انیشیٹو جیسے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، جبکہ شہری ٹرانسپورٹ کا 40 فیصد حصہ الیکٹرک اور ہائبرڈ سسٹم پر منتقل کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔احسن اقبال نے زور دیا کہ فصلوں کو جلانے کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے، کیونکہ یہی عمل اسموگ کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب محض موسمیاتی تبدیلی کا شکار ملک نہیں بلکہ ماحولیاتی قیادت کا حامل ملک بننا ہوگا، اور “یہ وقت الزام تراشی کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔”