خونِ شہیداں سے لکھی گئی ستمبر کی داستان ِ شجاعت

حافظ عبدالغفار روپڑی 
ستمبر کا مہینہ جب بھی آتا ہے پاکستان کی فضائیں ایک ایسی داستان سنانے لگتی ہیں جس کے ہر لفظ میں شہادت کی خوشبو ، ہر سطر میں شجاعت اور ہر باب میں وطن سے محبت ٹپکتی ہے۔  ستمبر وہ عظیم مہینہ ہے جب پاکستان کے بیٹوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرکے دنیا کو بتایا کہ وطن صرف نقشے پر کھینچی ہوئی ایک لکیر کا نام نہیں، وطن ایک عقیدہ، ایک احساس، ایک ذمہ داری اور ایک امانت ہے اور ہم اس امانت کی حفاظت اپنے خون سے کریں گے۔
1965 ء￿  کا معرکہ صرف توپوں، ٹینکوں اور طیاروں کی جنگ نہیں تھا یہ دراصل عزم اور حوصلے کا امتحان تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کو ایک ایسی طاقت کا سامنا تھا جو افرادی قوت، وسائل اور مجموعی عسکری حجم کے اعتبار سے کہیں بڑی تھی۔ تاریخی اعدادوشمار کے مطابق اس جنگ میں بھارتی فوج کی مجموعی افرادی قوت تقریباََ سات لاکھ جبکہ پاکستانی فوج کی تعداد  تقریباََ دو لاکھ ساٹھ تھی۔یہی تفاوت ٹینکوں اور طیاروں میں بھی تھا۔یعنی میدان میں صرف اسلحہ نہیں تھا، طاقت کا ایک بڑا عدم توازن بھی موجود تھا۔لیکن رب کعبہ کو ماننے والے یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ جنگوں کی تاریخ ہتھیاروں اور افرادی قوت کی برتری سے نہیں لکھی جاتی۔قرا?ن ہمیں بتاتا ہے کہ کبھی کبھی کم تعداد والے لوگ بڑے حوصلے کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں پھر فتح ان کے قدم چومتی ہے۔
ستمبر 1965 ء￿  میں یہی منظر چشم فلک نے دیکھا۔ 6ستمبر کی صبح جب بھارتی افواج نے بین الاقوامی سرحد عبور کرکے لاہور کی جانب پیش قدمی کی تو پاکستان کے سپوتوں نے اپنے سینوں کو وطن کی فصیل بنا دیا۔ لاہور کے دروازوں تک پہنچنے کا خواب دیکھنے والے دشمن کو اندازہ ہوا کہ جس قوم کو وہ کمزور سمجھ رہا تھا وہ اپنے وطن کے دفاع کے لیے ایک مضبوط دیوار بن چکی ہے۔جذبات کا یہ عالم تھا کہ گھروں میں مائیں سرحدوں پر دشمن سے برسرپیکار اپنے بیٹوں کے لیے دعائیں کر رہی تھیں، بہنیں پاک فوج کے جوانوں کی سلامتی مانگ رہی تھیں، بزرگ مساجد میں وطن کی حفاظت کے لیے دعائیں کر رہے تھے اور نوجوان ڈنڈے اٹھائے واہگہ بارڈر کراس کرنے کے لیے بیتاب تھے۔الغرض قوم کا ہر فرد اپنے اپنے محاذ پر کھڑا تھا۔
اگر چہ پاک فوج کے جوان سرحدوں پر چاق وچوبند کمربستہ تھے لیکن قوم ان کے پیچھے سیسہ پلائی دیوار بن کھڑی تھی۔ اس وقت کے عالمی عسکری تجزیہ کاروں نے واضح الفاظ میں لکھا کہ اس جنگ میں پاک فوج کی افرادی قوت اور اسلحہ بھارت کے مقابلے میں بہت کم تھا اس کے باوجود پاکستان کی بہادر افواج نے دشمن کو عبرتناک اور ذلت ا?میز شکست سے دوچار کیا۔ 1965 ء￿  کی جنگ ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ محدود وسائل رکھنے والی قوم اگر اپنے مقصد، دفاع اور اجتماعی حوصلے پر متحد ہوجائے تو اسے دنیا کی بڑی بڑی طاقت بھی شکست نہیں دے سکتی ہے۔
فضائوں میں پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ایم ایم عالم چشم زدن میں بھارت کے پانچ ہاکر ہنٹر طیارے گرا کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آلات اور افراد کا فرق سامنے آتا ہے۔ ٹینک فولاد کا بنا ہوتا ہے، مگر اسے چلانے والا انسان ہوتا ہے۔ طیارہ دھات سے بنتا ہے، مگر اسے آسمان میں اڑانے والا انسان ہوتا ہے۔ توپ طاقتور ہوسکتی ہے، مگر اسے درست سمت میں استعمال کرنے والا انسان ہوتا ہے۔
اور جب وہ انسان مسلمان ہو ، اس کے دل میں ایمان ، جذبہ جہاد ، شوق شہادت اور وطن کی محبت ہو تو محدود وسائل بھی بڑی قوت بن جاتے ہیں۔
1965 کے شہید اسی جذبے کی روشن مثال ہیں۔میجر عزیز بھٹی شہید کا نام آج بھی پاکستان کی عسکری تاریخ میں عزم، جرا?ت اور قربانی کی علامت ہے۔ وہ لاہور کے محاذ پر دشمن کے سامنے ڈٹے رہے اور آخرکار اپنی جان وطن پر قربان کردی۔ ایسے سپوتوں نے اپنی زندگی سے یہ پیغام دیا کہ وطن کی حفاظت صرف تقریروں سے نہیں ہوتی اس کے لیے کردار، قربانی اور ثابت قدمی درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے پاکستانی قوم کے نزدیک 6 ستمبر محض ایک دن نہیں بلکہ ایک احساس ہے۔ یہ احساس ہے کہ جب وطن خطرے میں ہو تو اختلافات پیچھے رہ جاتے ہیں۔یہ احساس۔۔۔جہاد کے سرچشمے سے پھوٹتا ہے۔ جس قوم میں جہاد کا جذبہ موجزن ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دی سکتی ہے۔ 
آج جب ہم 1965 ء￿  کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہیں تو ایک سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوتا ہے: کیا آج ہمیں پھر اسی اتحاد کی ضرورت نہیں؟
یقینا ہے۔
آج دشمن کے محاذ کی شکل بدل چکی ہے۔ آج ہر مسئلہ ٹینک اور توپ کی شکل میں ہمارے دروازے پر نہیں آتا۔ آج معاشی مشکلات، سیاسی کشیدگی، سماجی تقسیم، جھوٹی اطلاعات،  باہمی بداعتمادی، تعلیمی پسماندگی، بے روزگاری اور ادارہ جاتی کمزوری جیسے چیلنجز بھی قومی طاقت کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں 1965 ء￿  کا سب سے بڑا سبق ہمیں یہی ملتا ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے مضبوط نہیں ہوتیں؛ قومیں اتحاد، نظم، انصاف، محنت اور اجتماعی ذمہ داری سے مضبوط ہوتی ہیں۔ا گر سیاست دان ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کریں،  ادارے آئینی حدود میں رہ کر اپنا کردار ادا کریں، شہری قانون کی پاسداری کریں، نوجوان تعلیم اور ہنر کو اپنا ہتھیار بنائیں، تاجر دیانت داری کو اپنا شعار بنائیں، اہلِ علم قوم کو تقسیم کرنے کے بجائے جوڑنے کی کوشش کریں اور ہم اپنے اختلافات کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے روک دیں تو پاکستان آج بھی بڑی سے بڑی مشکل سے نکل سکتا ہے۔
1965ء￿  میں قوم نے یہ ثابت کیا تھا کہ اتحاد۔۔۔۔ طاقت ہے۔
آج ہمیں یہی طاقت معیشت کی تعمیر، تعلیم کے فروغ، داخلی استحکام اور قومی ترقی کے لیے     استعمال کرنا ہے۔
ہمیں اپنے شہیدوں کو صرف نعروں میں یاد نہیں کرنا بلکہ ہمیں ان کے کردار کو اپنی زندگیوں میں اتارنا ہے۔
جس طرح 1965ء￿  کے شہدا نے سرحدوں پر اپنا فرض ادا کیا اسی طرح ہم اپنے اپنے میدان میں اپنا فرض ادا کریں۔ استاد علم کا چراغ روشن کرے، طالب علم محنت کرے، مزدور دیانت سے کام کرے، تاجر انصاف کرے، صحافی سچ اور ذمہ داری کو مقدم رکھے، سیاست دان قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دے اور ہر پاکستانی اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرے۔
یہی آج کا قومی جہاد ہے: جہالت کے خلاف علم کا جہاد، بدعنوانی کے خلاف دیانت کا جہاد، مایوسی کے خلاف امید کا جہاد، انتشار کے خلاف اتحاد کا جہاد اور کمزوری کے خلاف محنت کا جہاد۔
یاد رکھیں ! ستمبر ہمیں صرف ماضی ہی یاد نہیں دلاتابلکہ یہ مہینہ ہمیں آئینہ بھی دکھاتا ہے۔
ستمبر ہم سے پوچھتا ہے پاک فوج کے جن شہدا نے اپنی جانیں دے کر وطن کی حفاظت کی کیا ہم ان کی قربانیوں کی قدر کر رہے ہیں؟
کیا ہم اپنے معمولی اختلافات کو قومی مفاد سے بڑا تو نہیں بنا رہے؟
کیا ہم اپنی توانائیاں ایک دوسرے کو گرانے میں تو صرف نہیں کررہے ؟ 
وقت کا جواب واضح ہے کہ ہمارا اتحاد انتشار میں اور ہمارا اقبال ادبار میں بدل چکا ہے۔ 
عزیزان من ! یاد رکھیں اتحاد ہو تو قوم مضبوط ہوتی ہے، عزم ہو تو مشکل آسان ہوتی ہے اور قربانی کا جذبہ زندہ ہو تو وطن کی امید کبھی نہیں مرتی۔
خونِ شہیداں سے لکھی گئی ستمبر کی داستان ہمیں پکار رہی ہے کہ اپنے اختلافات کو دفن کرو، دلوں کو جوڑو، پاکستان کو مقدم رکھو اور اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک مضبوط، باوقار اور متحد وطن تعمیر کرو۔
یہی شہیدوں کو حقیقی خراجِ عقیدت ہے۔
یہی 1965ء￿  کا زندہ پیغام ہے۔
اور یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر پاکستان آج بھی مشکلات کے گرداب سے نکل سکتا ہے۔