ٹی ٹی پی خطے کیلئے مشترکہ خطرہ ‘پاکستان بلاک سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا:دفترخارجہ

 پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر کارروائیاں کرتا ہے ، جو انتہائی احتیاط اور درستگی  کیساتھ کی  جاتی ہیں
امریکی سرمایہ کاری سے نئی بندرگاہ کی خبریں محض تجاویز ہیں‘ حکومت کی ترجیح معیشت کا استحکام اور قومی سلامتی ہے :ترجمان کی ہفتہ وار پریس بریفنگ
اسلام آباد (آن لائن) ترجمان دفتر خارجہ  شفقت علی خان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں  کہا ہے  پاکستان اور سعودی عرب  کے درمیان تجارتی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر اتفاق  ہوا ہے۔  فریقین نے سعودی وژن 2030  اور پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کے تحت ہم آہنگ منصوبوں میں شراکت داری پر غور کیا۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی واحد درخواست ہے   افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے ۔ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے سرحدی علاقوں میں انٹیلی جنس بنیادوں پر ہدفی کارروائیاں کرتا ہے ، جو انتہائی احتیاط اور درستگی  کے ساتھ انجام دی جاتی ہیں۔ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ  ٹی ٹی پی جیسے گروہ پورے خطے کے امن کے لیے مشترکہ خطرہ ہیں ، جن سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔امریکہ کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ امریکی سرمایہ کاری سے نئی بندرگاہ کی تعمیر سے متعلق خبریں محض تجارتی تجاویز  ہیں، جو ابتدائی مراحل میں ہیں اور حکومت پاکستان کی کوئی سرکاری پالیسی یا فیصلہ نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات باہمی احترام اور مثبت روابط  کے اصولوں پر مبنی ہیں۔ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کسی بلاک سیاست کا حصہ نہیں بننا چاہتا اور قومی معیشت کا استحکام اور سلامتی ہی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔