محکمۂ موسمیات نے حال ہی میں پیشگوئی کی تھی کہ سردی کا باقاعدہ آغاز اکتوبر کے آخر میں بارشوں کے بعد ہوگا، تاہم موسم کے موجودہ مظاہر اس پیشگوئی سے مختلف سمت اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق رواں برس سردی متوقع وقت سے پہلے شروع ہونے کے واضح آثار موجود ہیں۔موسم کی بے ترتیبی کا ایک نمایاں مظہر ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں میں معمول سے کہیں پہلے برفباری کا آغاز ہے۔ ان خطوں میں برفباری کا سلسلہ عام طور پر نومبر کے وسط میں شروع ہوتا ہے، مگر اس سال ستمبر کے آخر اور اکتوبر کے آغاز میں ہی پہاڑ برف سے ڈھک گئے ہیں۔پاکستان میں محکمۂ موسمیات کے حکام اس غیر معمولی تبدیلی پر تاحال خاموش ہیں اور ان کا مؤقف یہی ہے کہ اکتوبر کے آخر میں بارشوں کے بعد سردی آئے گی۔ حالانکہ گزشتہ برس دسمبر کے وسط تک موسم میں حدت برقرار تھی، مگر اس سال ستمبر کے جاتے ہی موسم نے غیر متوقع موڑ لیا اور واضح طور پر سردی کا احساس بڑھ گیا ہے۔پہاڑی علاقوں میں یہ تبدیلی زیادہ نمایاں ہے، جبکہ پنجاب جیسے میدانی علاقوں میں اس کے اثرات نسبتاً نرم ہیں — لیکن تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔
ہماچل پردیش میں قبل از وقت برفباری، سیب کی فصل تباہ
بھارت کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں قبل از وقت ہونے والی برفباری نے سیب کے باغبانوں کو شدید نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق وادیٔ لاہول میں مسلسل تین دن کی برفباری اور بارشوں کے باعث ہزاروں سیب کے درخت ٹوٹ گئے، جب کہ لاکھوں سیب زمین پر گر کر ضائع ہو گئے۔
مقامی باغبانوں نے بتایا کہ وہ اپنی فصل منڈیوں میں بھیجنے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک برفباری نے تمام منصوبے درہم برہم کر دیے۔
وادیٔ لاہول کے ایک باغبان، چیتن، نے بھارتی خبر رساں ایجنسی IANS سے گفتگو میں کہا:
"ہم نے تاجروں سے بات کر لی تھی، مال روانہ کرنے والے تھے، لیکن اب باغات کی حالت دیکھ کر دل رو رہا ہے۔ ہماری ساری محنت ضائع ہو گئی۔"
باغبانوں نے حکومت سے فوری مالی امداد اور معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جلد از جلد مدد نہ کی گئی تو ان کی سال بھر کی آمدنی کا واحد ذریعہ ختم ہو جائے گا۔
یہ صورتحال 2018 کی یاد دلاتی ہے، جب اسی طرح کی قبل از وقت برفباری نے خطے کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔