نئی دہلی میں لال قلعہ کے قریب ہونے والے دھماکے نے تفتیشی اداروں کو شدید الجھن میں ڈال دیا ہے۔
بھارتی جریدہ دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق، واقعے کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ جائے وقوعہ سے کسی بھی قسم کے دھماکا خیز مواد، بارودی اشیاء یا دھوئیں کے آثار نہیں ملے ہیں۔ نہ ہی کوئی اسپلنٹر، زمین میں پھٹنے کا نشان یا دیگر شواہد موجود ہیں جو کسی قسم کے دھماکے کی تصدیق کریں۔دی ٹریبیون انڈیا کے مطابق بھارتی پولیس نے اس خودکش حملے کے امکانات کو مسترد کر دیا ہے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد اس بات کی نشاندہی نہیں کرتے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔
مزید برآں، پولیس نے اس واقعے کو مقبوضہ کشمیر یا فریدآباد میں برآمد اسلحہ سے جوڑنے کے حوالے سے بھی کوئی تاحال یقین دہانی نہیں کرائی ہے۔یاد رہے کہ 10 نومبر کو یہ واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد سے علاقائی اور قومی سطح پر ہنگامہ برپا ہے، اور تفتیشی ادارے مختلف زاویوں سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اصل وجوہات اور ذمہ داران کا سراغ لگایا جا سکے۔