امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہدایت کی ہے کہ تمام ایئر ٹریفک کنٹرولرز فوراً اپنے فرائض پر واپس آئیں، ورنہ ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے گی۔
یہ حکم اس وقت جاری کیا گیا ہے جب ملک میں 41 دن سے جاری حکومتی شٹ ڈاؤن کے سبب ہزاروں پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار ہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا: “تمام ایئر ٹریفک کنٹرولرز فوراً کام پر واپس آئیں، جو نہیں آئیں گے ان کی تنخواہیں کم کر دی جائیں گی۔” انہوں نے اعلان کیا کہ جو ملازمین شٹ ڈاؤن کے دوران مسلسل کام کرتے رہے، انہیں 10 ہزار ڈالر کا بونس دیا جائے گا، جبکہ غیر حاضر رہنے والوں کی نوکریاں ختم کر دی جائیں گی۔رپورٹس کے مطابق، اس شٹ ڈاؤن کے باعث تقریباً 13 ہزار ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور 50 ہزار ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایجنٹس بغیر تنخواہ کام کر رہے ہیں۔ پیر کے روز 2 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ اور 5 ہزار سے زیادہ تاخیر کا شکار ہوئیں۔ خاص طور پر شکاگو میں برفانی طوفان نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔
ایف اے اے (FAA) کے مطابق، ملک کے بڑے 30 ایئرپورٹس میں سے کئی میں 20 سے 40 فیصد عملہ غیر حاضر ہے۔ دوسری جانب، ایئرلائنز نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ شٹ ڈاؤن ختم کرنے کے لیے سینیٹ سے منظور شدہ بل جلد از جلد نافذ کیا جائے تاکہ فضائی سفر معمول پر آ سکے۔امریکن ایئرلائنز کے سی ای او نے اس صورتحال کو "ناقابلِ قبول" قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسافروں اور ملازمین کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ان کا حق ہے۔ ٹرمپ کے اس حکم کے بعد امریکی ایئرلائنز کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی ہے۔