میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام شامل تھا، آئینی عدالت کی دوسری عدالتوں سے علیحدگی ایک بڑی پیش رفت ہے، یہ ایک بڑی خوش آئند تبدیلی ہے
دوبارہ مطالبہ آیا ہے صوبے کا نام صرف پختونخوا ہونا چاہیے، نام کی تبدیلی پر مشاورت ہو گی، ایم کیو ایم کی بلدیاتی نظام سے متعلق ترمیم پربھی مشاورت ہوگی
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے یہ ایک تاریخی بل تھا،27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری پر سینیٹرزکو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔سینیٹ اجلاس کے وقفہ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا میثاق جمہوریت میں آئینی عدالت کا قیام شامل تھا، آئینی عدالت کی دوسری عدالتوں سے علیٰحدگی ایک بڑی پیشرفت ہے، یہ ایک بڑی خوش آئند تبدیلی ہے۔اْنہوں نے کہا کہ یہ ایک بہت بڑی اور خوش آئند تبدیلی ہے، چیف جسٹس پاکستان سمیت تمام ججزکی سنیارٹی برقرار رہے گی، آئینی عدالت کی دوسری عدالتوں سے علیٰحدگی بڑی پیشرفت ہے۔نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم بل تھا، منظوری پرتمام سینیٹرز اتحادیوں او رآزاد اراکین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، دنیا کیکئی ملکوں میں آئینی عدالت موجود ہے، آئینی ترمیم عدالتی نظام میں بہتری کے لیے کی گئی ہے۔اسحاق ڈار نے کہا کہ آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے ترامیم پر تمام سٹیک ہولڈرز مبارکباد کے مستحق ہیں، وعدے کیمطابق بل پہلے سینیٹ میں لائیاورتمام سینیٹرز کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی دونوں ایوان کیارکان پرمشتمل تھی۔اْن کا کہنا تھا کہ تمام معاملات کوباہمی مشاورت اورافہام و تفہیم سے حل کریں گے، اٹھارہویں ترمیم میں خیبرپختونخوا کا نام تبدیل ہوا، خیبرپختونخوا کا نام عوامی نیشنل پارٹی کے مطالبے پر تبدیل کیا گیا، یہ ایک ٹیم ورک ہے، سب کومبارک ہو۔نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ دوبارہ مطالبہ آیا ہیکہ صوبے کا نام صرف پختونخوا ہونا چاہیے، صوبے کے نام کی تبدیلی پر مزید مشاورت ہو گی، ایم کیو ایم کی پیش کی گئی بلدیاتی نظام سیمتعلق ترمیم پربھی مزید مشاورت ہوگی۔