گرین ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران چار ڈاکو ہلاک، خاتون ملزمہ کا بیان

گرین ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران چار ڈاکو ہلاک، خاتون ملزمہ کا بیان

لاہور کے علاقے گرین ٹاؤن میں پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے کے دوران چار ڈاکو ہلاک ہو گئے۔

 پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکو ایک منظم گروہ کا حصہ تھے جو کئی اہم وارداتوں میں ملوث تھا۔ اس گروہ کی ساتھی ملزمہ اقراء نے پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کروایا جس میں اس نے اہم انکشافات کیے ہیں۔اقراء نے بتایا کہ اس کا اپنے شوہر سے جھگڑا ہو گیا تھا جس کے بعد اس نے ڈکیت رضوان سے تعلقات استوار کیے۔ اقراء نے مزید بتایا کہ وہ اپنے چھ سالہ بچے کے ہمراہ رضوان کے ساتھ لاہور آ گئی، جہاں اس نے چھ ماہ تک رضوان کے ساتھ کام کیا اور ڈکیت گروہ کی وارداتوں میں حصہ لیا۔ ملزمہ کا کہنا تھا کہ گروہ کے ساتھ واردات کے دوران لوٹی گئی رقم اور زیورات وہ کبھی گھر میں نہیں رکھتی تھی، بلکہ فوراً بینک میں جمع کروا دی جاتی تھی۔

پولیس تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ مارے جانے والا ڈاکو گروہ سی آئی اے ملتان اور آئی بی کے لیے مطلوب تھا۔ یہ گروہ مختلف علاقوں میں وارداتیں کرتا تھا اور اکثر سرکاری وردیاں پہن کر لوگوں کو لوٹنے کے بعد فرار ہو جاتا تھا۔ پولیس کے مطابق یہ ڈاکو گروہ ملتان، پاکپتن اور عارفوالہ جیسے علاقوں میں بھی وارداتوں میں ملوث تھا، اور ان وارداتوں کی منصوبہ بندی لاہور میں کی جاتی تھی۔ایک اہم انکشاف یہ بھی ہوا کہ ہلاک ہونے والے ڈاکو کے گروہ کے رکن زین نے لاہور میں وارداتوں کی منصوبہ بندی کے دوران ایک موٹر سائیکل، جو کہ چھینی گئی تھی، استعمال کی تھی۔ یہ گروہ پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا تھا اور پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں اس کا صفایا کیا گیا۔