ایران نے امریکا کی جانب سے جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو ایران بھرپور جواب دے گا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بیان میں کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، تاہم جب بھی اسے لڑنے پر مجبور کیا جائے گا تو وہ دفاع ضرور کرے گا۔ ان کے مطابق تہران کے لیے سفارت کاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے اور جب بھی مذاکرات یا سفارتی عمل کی گنجائش پیدا ہوگی، ایران اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے۔ترجمان نے کہا کہ سفارت کاری کے بھی اصول اور حدود ہوتے ہیں اور ایران اپنے فیصلے ہمیشہ قومی مفادات کو سامنے رکھ کر کرتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اب بھی ایسے غیر معقول مطالبات پر قائم ہے جنہیں ایران قبول نہیں کر سکتا۔اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ ایران کی جانب سے اتوار کو پاکستان کے ذریعے بھیجا گیا جواب کسی بھی حد سے تجاوز کرنے والا نہیں تھا، تاہم امریکا کی جانب سے اس مؤقف کو مسترد کرنے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی صدر کے حالیہ مؤقف کے بعد خطے کا امن اور استحکام مزید متاثر ہوا ہے اور موجودہ صورتحال پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ایرانی ترجمان کے مطابق ایران اپنے عوام اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔