خاک سے اٹھتے خواب: ایران و پاکستان کا اتحاد۔۔۔

سمیع اللہ ملک (تیسری قسط)
یادرکھو:جب غرورکے تخت پرتدبرقربان ہوتاہے،تواقتدارکے ستون ریت کی دیواربن جاتے ہیں۔جب احتیاط کی تلوارکندہو جائے،تودشمن کی ضرورت نہیں رہتی،تب اندرسے بوسیدگی موت کی دستک دیتی ہے۔آج دنیادیکھ رہی ہے،آج عمان کے دریاں کے کنارے مذاکرات ہورہے ہیں،مگرشہیدرجائی کے ملبے سے اٹھتی راکھ ان مذاکرات پرمشکوک سایہ ڈال رہی ہے۔اے اہلِ ایران اب بھی وقت ہے،آج کے دکھ کوکل کی دانش میں بدل لو۔آج کی راکھ سے ایک نئی بصیرت کی شمع جلالوکہ وقت کاسمندرمنتظرنہیں ہوتا،اورقومیں جولمحے گنوادیتی ہیں،صدیوں کے اندھیروں میں گم ہوجاتی ہیں۔
میں صدقِ دل سے تمہیں بلاتاہوں کہ اٹھو:خودکوتعمیرکروتاکہ دنیاگواہی دے کہ ایران پھراٹھاہے،عقل کے،تدبرکے،حکمت کے پروں پرسوارہوکر۔
اے فرزندانِ خاکِ ایران!اے وہ لوگو،جو کہن سال تہذیبوں کے وارث ہو،جن کے خون میں تختِ جمشیدکی عظمت ہے،جن کے خوابوں میں قادسیہ کی تپش ہے،اورجن کی سانسوں میں بحرِعمان کی ہواکاغروربساہے۔آج میں تم سے اس لمحے مخاطب ہوں جب شہیدرجائی کی بندرگاہ پرامیدوں کے چراغ بجھ چکے ہیں،جب خاکسترہو چکی تجارت کی وہ عظیم روایت جوصدیوں سے تمہاری معیشت کی روح تھی،جب دھماکوں کی گونج نے تمہیں تمہارے غرور،تمہاری غفلت،تمہاری نادانی کانوحہ سنایاہے۔
تم نے دیکھاکہ کیساہلاکت خیزکھیل کھیلاگیا،جہاں راکٹوں کاایندھن تھا،جہاں سوڈیم پرکلوریٹ کی مہلک سانسیں تھیں،وہاں احتیاط کے حصارنہ تھے،عقل کے قلعے منہدم تھے، دانش کی باریک دیواریں ریزہ ریزہ ہوگئیں۔آج جب ہم سب ملبے پرکھڑے ہیں تویہ ملبہ محض دھاتوں اورپتھروں کانہیں،یہ ہماری دانش کاملبہ ہے،ہماری تدبیرکاجنازہ ہے، ہماری قیادت کی بصیرت کاماتم ہے۔
اے ملتِ ایران!یادرکھو!تاریخ بڑی بے رحم ہے،وہ ان قوموں کوبھول جاتی ہے جواپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھیں،اوروہ انہیں امرکردیتی ہے جوماضی کی راکھ سے مستقبل کاقصر تعمیرکریں۔ہمیں یہ مان لیناچاہیے کہ ہم طاقت کے جنون میں ہوش کھوبیٹھے،ہم نے ترقی کے سفرمیں احتیاط کاچراغ گرادیا،ہم نے طاقت کوعقل سے آزادکردیا،اوریہی وہ لمحہ تھا جب زوال نے ہمارادروازہ کھٹکھٹایا۔
آج میں تمہیں دعوت دیتاہوں آ،شہیدرجائی کی ویران سرزمین پرایک نیاعہداٹھاؤ۔ایساعہدجوعقل کاہو،تدبرکاہو،اصول کاہو،ہمیں راکٹوں سے زیادہ دانش کے میزائل چاہیے، ہمیں ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ علم کااسلحہ چاہیے،ہمیں بندرگاہوں میں ایندھن سے زیادہ تدبرکے گودام چاہیے۔
آج وقت نے ہمیں ایک بارپھرایک فیصلہ کن موڑپرلاکھڑاکیاہے۔اس نازک اورحساس دورمیں جب ہماری سرزمینوں پر خطرات منڈلارہے ہیں،اب وقت آچکاہے کہ ایران اورپاکستان،دوبرادراسلامی ممالک،اپنے تاریخی،ثقافتی اورمذہبی رشتوں کوایک مضبوط اورمتحرک اتحادمیں ڈھالیں۔جب دریاسوکھنے لگیں،جب بچوں کی پیاس بجھانے والے چشمے دشمنی کی آگ میں جھلس جائیں،اورجب آسمان پربارودکے بادل چھاجائیںتب انسان اپنے بھائی کوپکارنے لگتاہے۔
پاکستان اس وقت آبی جارحیت کاسامناکررہاہے،جہاں بھارتی حکومت،مودی کی قیادت میں،سندھ طاس معاہدے کوختم کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔یہ عمل صرف پاکستان کی سلامتی ہی نہیں،بلکہ پورے خطے کے امن کوخطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔دوسری جانب اسرائیل،جوبھارت کاقریبی حلیف ہے،اسی جارحانہ سوچ کوعالمی سطح پرپھیلا رہا ہے ،نہ صرف غزہ میں بیگناہوں کاخون بہارہاہے بلکہ اب انڈیاکے ہزاروں افرادکوجنگ کاحصہ بناکراس ظلم میں شریک ہوچکاہے۔پاکستان پرمودی کی آبی جارحیت ایک خاموش جنگ ہے ،پانی کوہتھیاربناکرہماری دھرتی کی سانسیں روکنے کی کوشش ہورہی ہے۔یہ وہی مودی ہے جس کے اشارے پرہزاروں بھارتی جنگجوغزہ میں معصوموں کاخون بہا رہے ہیں۔
اوراسی مودی کے پیچھے اسرائیل کھڑاہیوہی اسرائیل جوبرسوں سے ایران کی سرحدوں پرزہربورہا ہے،جوتہران کو تنہاکرنے کے خواب دیکھ رہاہے۔ایران بھی ایک عرصے سے صیہونی جارحیت کے خلاف مدافعت کی علامت بناہواہے۔ہمیں یادرکھناچاہیے کہ ہمارادشمن ایک ہے وہ جوہمارے درمیان تفرقہ پیداکرناچاہتاہے،جوہمارے وسائل پرقبضہ اور ہماری خودمختاری کوچیلنج کرتاہے۔یہ وقت ہے کہ ہم ایک صف میں کھڑے ہوں،اپنی مشترکہ اقدار،سلامتی اورمستقبل کیلئے ایک آوازبنیں۔ایران اورپاکستان کا اتحادنہ صرف دشمنوں کے عزائم کوناکام بنائے گا،بلکہ پوری امتِ مسلمہ کیلئے امیداوراستقامت کی علامت بنے گا۔
مگرکیادشمن ہمیں بھول گیا؟کیاوہ بھول گیاکہ کربلاسے ہمیں صبر،غیرت اورمزاحمت ورثے میں ملی ہے؟کیاوہ بھول گیاکہ اسلام آباداورتہران،لاہوراورشیرازکارشتہ فقط زبان کا نہیں ،دلوں کاہے؟جب فلسطین جلتاہے توایران اورپاکستان کے دل سے آہیں نکلتی ہیں،اورجب کشمیرسسکتاہے توپاکستان کے بچے بھی نعر حریت بلندکرتے ہیں۔
خاکسترسے قصراٹھائیں گے،
زخموں سے چراغ جلائیں گے،
اے ایران!اے سرزمینِ حسین۔۔۔۔اے پاکستان!اے ارضِ شہدا!
اٹھو:غفلت کی زنجیریں توڑدو،خوف کی دیواریں گرادو،فرسودہ سوچوں کی بیڑیاں کاٹ دو،وقت کے سمندرپرایک نیاسفینہ تراشو،ایساسفینہ جواصولوں کی بادبانی سے چلے،ایساسفینہ جسے حکمت کی ہوادھکے دے۔آج شہیدرجائی ہم سے مطالبہ کر رہاہے کہ ہم صرف مرثیہ نہ کہیں،صرف ماتم نہ کریں،بلکہ نئی زندگی کی قندیل جلائیں،اوردنیاکودکھائیں کہ ایران، ہزارزخم کھاکربھی،اپنے زخموں سے چراغ بناناجانتاہے۔
خداکی قسم!اگرہم نے آج کے اس المیے کوبصیرت میں ڈھال لیا،توکل شہید رجائی کی راکھ سے ایک نیاایران جنم لے گا، ایساایران جس کے دریا،پہاڑاورریگزارگواہی دیں گے کہ ایرانی قوم اپنے خوابوں کی قیمت جانتی ہے،اورانہیں تعمیرکرنے کاہنربھی۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے اختلافات بھول کر،اپنی دشمنیوں کودفن کرکے،ایک نئی صبح کی بنیادرکھیں۔ایک ایسی صبح جہاں ایران اورپاکستان،ظلم کے خلاف ایک دیوارہوں۔جہاں ہماری یکجہتی دشمن کے ایوانوں کوہلادے۔جہاں مائیں اپنے بیٹوں کوشیربننے کادرس ایران وپاکستان کے اتحادکی کہانی سناکردیں۔
آئیں،ہاتھ میں ہاتھ ڈال کردشمن کوبتادیں،ہم نہ پانی چھیننے دیں گے،نہ ایمان۔نہ غزہ تنہاہے،نہ کشمیر۔ہم ایک ہیں،اورایک رہیں گے،ایک جسم،ایک آواز،ایک عزم۔آئیے،مل کرظلم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں،اوردنیاکوبتادیں کہ برادرقومیں جب ایک ہوجائیں توکوئی طاقت انہیں جھکانہیں سکتی۔وقت آگیاہے کہ ہم یکجاہوں۔ایران وپاکستان خون سے سینچاہوارشتہ،جو اب فولادبننے جارہاہے۔دوستی نہیں،برادری ہے اوربرادری کبھی جھکتی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خداہمیں بصیرت دے،استقامت دے،اور کامیابی دے۔
راکھ کے نیچے خوابوں کی کرنیں ہیں،
ویران فضاں میں امیدوں کی گھنگھنیاں ہیں۔
جہاں آگ بھڑکی،وہیں روشنی پھوٹے گی،
جہاں زخم ابھرا،وہیں قوت جھلکے گی۔
ہم وہ قوم ہیں جوخاک سے دستاربناتی ہے،
اندھیروں سے صبحوں کی نویدلاتی ہے۔