ویب ڈیسک: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی عازمین حج کے لیے ہم وطن اور ہم زبان طبی عملہ کا موجود ہونا کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔
یہ بات انہوں نے پاکستان حج مشن ہسپتال کے دورے کے موقع پر کہی۔ اس موقع پر ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو، چیف کوآرڈینیٹر حج ڈاکٹر مرزا علی محسود، ڈائریکٹر حج مکہ عزیز اللہ خان اور کوآرڈینیٹر مکہ ذوالفقار خان بھی ان کے ہمراہ تھے۔پاکستان حج میڈیکل مشن کے سربراہ کرنل ڈاکٹر شہیر جمال نے وفاقی وزیر کو ہسپتال کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کروایا۔ سردار محمد یوسف نے دستیاب طبی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے طبی عملے کو تمام ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کرنے کی ہدایت دی۔ڈی جی حج عبدالوہاب سومرو کے مطابق ہسپتال کے قیام، ادویات اور طبی آلات کی سعودی عرب منتقلی میں سعودی وزارت حج و عمرہ اور وزارت صحت نے بھرپور تعاون کیا، جبکہ روزمرہ کے طبی امور میں سعودی جرمن ہسپتال، پاکستان حج میڈیکل مشن کی معاونت کر رہا ہے۔کرنل ڈاکٹر شہیر جمال نے بتایا کہ 2025 کے حج کے لیے پاکستان حج میڈیکل مشن 303 افراد پر مشتمل ہے، جن میں سول اور فورسز سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف شامل ہیں۔ اس ٹیم میں مختلف ماہرین جیسے میڈیکل اسپیشلسٹ، سرجن، کارڈیالوجسٹ، آرتھوپیڈک، گائنی، ڈرماٹولوجسٹ، ENT، سائیکاٹرسٹ، فارماسسٹ، پبلک ہیلتھ ماہرین اور فزیوتھراپسٹ شامل ہیں، جن میں 72 لیڈی ڈاکٹرز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز بھی موجود ہیں۔
مرکزی ہسپتال میں مرد و خواتین کے لیے 30 بستروں پر مشتمل الگ وارڈز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ایمرجنسی، آئسولیشن، فارمیسی، پیتھالوجی، مائنر او ٹی، ڈینٹل اور ریڈیالوجی سمیت تمام جدید شعبہ جات کام کر رہے ہیں۔مکہ مکرمہ میں 9 فیلڈ ڈسپنسریاں فعال ہیں جنہیں 9 ایمبولینس گاڑیوں کی سہولت حاصل ہے، جبکہ مدینہ منورہ میں 11 بستروں پر مشتمل ایک چھوٹا ہسپتال اور دو فیلڈ ڈسپنسریاں کام کر رہی ہیں۔ کسی مریض کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی صورت میں سعودی ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے جہاں ’’ضیوف الرحمن‘‘ کا خصوصی طور پر اعلیٰ معیار کے مطابق علاج کیا جاتا ہے۔