خطے میں کشیدگی۔۔۔ایک سلگتی چنگاری

امجد علی
        پہلگام میں پیش آنے والا دہشت گرد حملہ، جس میں چھبیس بے گناہ شہری جاں بحق ہوئے، صرف ایک سانحہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے پہلے سے کشیدہ ماحول میں جلتی آگ پر تیل کا کام کر گیا ہے۔ یہ واقعہ، جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے سفاکیت کی نئی مثال ہے، بھارت اور پاکستان کو ایک بار پھر تصادم کی راہ پر لے آیا ہے۔ مسئلہ کشمیر جو پہلے ہی ایک دیرینہ اور سلگتا ہوا تنازع ہے، اب ایک ایسے نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں پہلگام کی طرح کی ایک چھوٹی سی چنگاری پورے خطے کو راکھ میں بدل سکتی ہے۔
       حسبِ روایت، بھارت نے بغیر کسی تحقیق یا ٹھوس شواہد کے پاکستان پر فوری الزام عائد کر دیا۔ اس میں ہونے والی اموات کے بیانیہ کو عالمی پلیٹ فارمز پر پیش کر کے بھارت نے نہ صرف ہمدردی سمیٹی بلکہ محدود عسکری کارروائی کے لیے غیر اعلانیہ درپردہ حمایت بھی حاصل کی۔ اسی حمایت کی اڑ میں 6 مئی کو بھارت نے لائن آف کنٹرول کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے کثیر جہتی آپریشن "سِندور" کے نام پر پاکستانی حدود میں مخصوص مدارس اور مساجد کو نشانہ بنایا، جنہیں مبینہ دہشت گرد ٹھکانوں کا لیبل دیا گیا۔ یہ حملے نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اْڑانے کے مترادف تھے بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے کے لیے کافی تھے۔
        پاکستان نے ان بھارتی عزائم کو بھانپتے ہوئے نہ صرف اپنی افواج کو ہائی الرٹ کیا بلکہ فضائی نگرانی کو بھی غیر معمولی حد تک بڑھا دیا۔ جیسے ہی بھارتی طیاروں نے دوبارہ پاکستانی حدود کی جانب پرواز کی، پاک فضائیہ نے بروقت اور بھرپور ردعمل دیتے ہوئے پانچ بھارتی جنگی طیاروں کو مار گرایا، جن میں تین رافیل طیارے بھی شامل تھے۔ ٹیلی گراف میں چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی نمائندے نے روئٹرز کو بتایا کہ پاکستانی J-10C طیارے نے پی ایل-15 میزائل کے ذریعے ایک رافیل طیارے کو نشانہ بنایا۔ پاکستان اور بھارت اپنی تنصیبات اور قیمتی قومی و دفاعی اثاثوں کی حفاظت کے لیے مختلف ائیر ڈیفینس ڈیڑینسں استعمال کر رہے ہیں۔ پاکستان چائنہ میڈ ایچ کیو 9 اور بھارت روسی ساختہ سی 300 اور سی 400 کو بطور ائیر انڑسیپشن ڈیڑینس استعمال کر رہا ہے۔ بحرحال پاکستان کی یہ دفاعی کامیابی بھارت کے لیے نہ صرف ایک غیر متوقع دھچکہ تھی بلکہ اس کی عسکری برتری کے دعوے بھی عالمی سطح پر سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ اس شکست نے آپریشن سندور کو انڈیا کے لیے باعث ہزیمت اور آپریشن رسوائی بنا دیا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی فضائیہ نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے، اور ائیر فورس نے خود کو انبیٹیبل سڑیٹیجک اور مضبوط آہنی دفاعی طاقت ثابت کیا ہے جس کا تذکرہ دنیا کے کنگ میکر بھی کر رہے ہیں۔ جو نہ صرف بہت قابل ستائش ہے بلکہ ہم سب کے لیے باعث فخر ہے۔ اس ان ائیر ڈاگ فائٹ بگ شو میں فتح کو عسکری اور سفارتی حلقوں میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اسے کہتے ہیں۔۔۔
          Fact speaks louder than the words
        اس شکست کے ردعمل میں 8 مئی کو بھارت نے مختلف پاکستانی شہروں پر ڈرون حملوں کی بارش کر کے بہت سارے شہروں کو نشانہ بنایا ہے، جنہیں پاکستانی حکام نے بلاجواز اور اشتعال انگیز قرار دیا۔ پاکستانی فضائی دفاع نے نہ صرف 25 بھارتی ڈرونز کو تباہ کیا بلکہ اپنی تنصیبات کو مکمل تحفظ فراہم کیا۔ مگر ان تمام کاروائیوں نے بارڈر کی دونوں اطراف بسنے والے شہریوں کو انجانے خوف میں جکڑ دیا ہے۔ اب کشیدگی صرف لائن آف کنٹرول تک محدود نہیں رہی بلکہ بین الاقوامی سرحدیں بھی اس کی لپیٹ میں آ چکی ہیں، جو کسی چھوٹی سی غلطی کی وجہ سے بڑے فیصلہ کن اور ناقابل تلافی تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔  ابتک ہونے والی ایکٹوزم سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ جنگ یا جھڑپیں مکمل طور پر فضائی مشینوں اور فیصلہ سازوں کے درمیان ہے۔ اگلے ممکنہ اہداف دونوں ممالک کے ائیر بیسز یا SAM سٹورز پلایسز ہو سکتی ہیں۔ افق پر ہونے والے ملٹی نیچر آپریشنز ہمیں سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ فضا میں اینگیجمنٹ کے طریقے یکسر بدل رہے ہیں۔ جنگ ٹینکوں سے جہازوں، میدانوں سے فضا اور اب بڑی مشینوں کی جگہ ڈرونز-چھوٹے برڈز کی طرف شفٹ کر گئی ہے۔ گولوں کی جگہ میزئلز اور آئندہ  شاید وہ بھی مزید مائکرو ٹیبلٹ ساخت میں بدل جائیں گے۔ اس تیزی سے بدلتی مشینوں اور حکمت عملی میں ہماری افواج کسی طرح پیچھے تو نہیں مگر مہنگی ایڈوانس ٹیکنالوجی  کے حصول کی تکمیل میں ہماری مالی حیثیت ہمیشہ آڑے رہی ہے۔
      جنگ کبھی کسی کے لیے اشائشوں کا باعث نہیں بنتی۔ بلکہ ہمیشہ معاشروں اور معیشتوں کو برباد کردیتی ہے۔ انسانی خون کی سرخ ندیاں رواں کرتی ہے۔ ہماری اپنی کمزور اور سسکتی معیشت پر بھی اس کے بہت برے اثرات کا ورود ہو رہا ہے۔ خوراک، ادویات اور مالی معاملات مذید بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ اب اس تناؤ بھرے ماحول کے اثرات عالمی مارکیٹ پر بھی محسوس ہو رہے ہیں
       فضائی حدود کی بندش، غیر ملکی وارننگز، اور بڑھتے ہوئے سفارتی دباؤ نے اس کشیدگی کو ایک بین الاقوامی بحران میں تبدیل کر دیا ہے۔ روس، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو پاکستان اور ایل او سی کے قریب جانے سے منع کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ دنیا ایک اور مسلح تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے وزیر اعظم سے رابطہ کر کے فوری مذاکرات کا مشورہ دیا، جبکہ چین نے بھارتی حملے کو افسوسناک قرار دے کر سیاسی حل پر زور دیا۔ ایران نے بھی ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ مگر یہ اقدامات اب تک لپ سروس کی حدود سے آگے نہیں جا سکے، جو انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ ان قوتوں کو بامعنی نتیجہ خیز کوششیں کرنی چاہئیے، جو خطے میں نیوکلئیر ٹکراؤ اور  تباہی سے بچنے لیے ضروری ہے۔
        اس تمام تناظر میں ہمیں اہم سوالات کے جوابات بھی تلاش کرنے ہیں، کہ آیا پہلگام کا واقعہ ایک "فالس فلیگ آپریشن" تھا؟ کیا یہ بھارت کی اندرونی حکمت عملی کا حصہ ہے یا کسی بین الاقوامی سازش کی کڑی؟ اگر یہ کوئی گلوبل گٹھ جوڑ ہے تو اس کے پیچھے کون سی طاقتیں ہیں، ان کا مقصد کیا ہے، پاکستان کی جوہری حیثیت، رئیر منرلز، سی پیک کا اسٹرٹیجک انفرااسٹرکچر، یا چین کی بڑھتی ہوئی معاشی طاقت کا راستہ روکنا؟ ہمیں ان سب پیچیدگیوں اور شازشوں سے نہ صرف دور رکھ کر خود کو اور مضبوط کرنا ہے بلکہ اپنے شہریوں کو ایک بہتر اور خوشحال ملک بھی دینا ہے۔
        ایسے وقت میں جب عوامی جذبات عروج پر ہوں، اور دشمن پر ہماری فضائی برتری بھی روز روشن کی طرح ثابت ہو چکی، ہمیں فیصلے کرتے وقت عقل، حکمت اور وسیع تر قومی اور انسانی مفاد کو سامنے رکھ کر کرنے ہوں گے۔ ہمیں تصادم سے بچنے کے لیے ہر ممکن سفارتی اہلکاروں کو استعمال کرنا چاہئیے۔ موثر عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ کو بروئے کار لانا چاہئیے، تاکہ ہر دو ممالک میں آباد ارب کے قریب ابادی کو بچایا جا سکے۔ یہاں ملک پاکستان کی سلامتی کو ہمیں یقینی بنانا ہے وہیں ہمیں ہلاقو خان اور ہٹلر جیسے جنگی جنون سے بھی انسانوں کو محفوظ کرنا ہے۔ دوسری جانب روایتی زمینی افواج کے ساتھ ساتھ ہمیں جدید فضائی جنگ، سائبر ڈیفنس، اور انٹیلی جنس کے میدانوں میں خود کو از سرِ نو منظم کرنا ہوگا۔ عسکری بجٹ کی نئی ترجیحات، ٹیکنالوجی اپگریڈیشن، اور ادارہ جاتی اصلاحات اب محض اختیاری اقدامات نہیں بلکہ بقا کی شرط بن چکے ہیں۔ موجودہ جنگی تیکنیکس کو دیکھتے ہمیں نئی ضرورتوں کے تناظر میں انہیں ریسٹرکچر کرنا ہو گا اور ائیر فورس کو ناقابل تسخیر حد تک ایڈوانسمنٹ کی ضرورت ہے۔
        اگرچہ دونوں ممالک جوہری جنگ سے اجتناب چاہتے ہیں، لیکن کشیدگی کے موجودہ درجے پر معمولی سی غلط فہمی یا کوئی حادثاتی اقدام حالات کو قابو سے باہر کر سکتا ہے۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فوری اور مؤثر سفارتی کردار ادا کرے، تاکہ جنوبی ایشیا ایک اور المیے سے بچ سکے۔ تاکہ جنگی جنون سے بچ کر انسانیت کو محفوظ کیا جا سکے۔ راحت اندوری نے برصغیر میں بپا ہوتے جنگی جنون کے مقاصد کو اپنے اشعار میں یوں بیان کیا ہے۔۔
     سرحدوں پر بہت تناؤ ہے کیا
     کچھ پتا تو کرو چناؤ ہے کیا
     خوف بکھرا ہے دونوں سمتوں میں
     تیسری سمت کا دباؤ ہے کیا۔