امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ایران نے تیل کی رسد کی اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دی ہیں۔
انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر صرف چند درجن سرنگیں بچھائی گئی ہیں، تاہم ایران کی پاسداران انقلاب روایتی بحریہ کے ساتھ اس گزرگاہ پر مکمل کنٹرول رکھتی ہے اور ضرورت پڑنے پر سینکڑوں سرنگیں بھی نصب کر سکتی ہے۔جنگ کے آغاز کے بعد یہ اہم راستہ عملی طور پر بند ہو چکا ہے، جس سے خلیج میں تقریباً 1 کروڑ 50 لاکھ بیرل یومیہ خام تیل اور 45 لاکھ بیرل یومیہ ریفائن شدہ ایندھن پھنس کر رہ گیا ہے۔کویت اور عراق جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک کے لیے آبنائے ہرمز کے متبادل راستے دستیاب نہیں ہیں، جس سے عالمی تیل مارکیٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔