آبنائے ہرمز میں بحری کشیدگی کے دوران ایک اور آئل ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے اور اس میں آگ لگنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے، جبکہ متاثرہ سپر ٹینکر میں 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل موجود تھا۔ایرانی خبر رساں ادارے ’’ارنا‘‘ کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ نے جمعے کو جاری بیان میں بتایا کہ آئل ٹینکر آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ایرانی حکام نے جہاز کی اس گزرگاہ کو غیر مجاز قرار دیا تھا۔بیان کے مطابق ایرانی بحریہ نے ریڈیو کے ذریعے جہاز کو متعدد مرتبہ خبردار کیا کہ وہ مذکورہ راستے سے گزرنے کی کوشش نہ کرے، تاہم انتباہ کو نظرانداز کیے جانے کے بعد ٹینکر بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا، جس کے بعد جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے اس واقعے کو آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت سے متعلق سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں بیان کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق حالیہ واقعہ اس نوعیت کا چوتھا واقعہ ہے، جس سے اس اہم بحری گزرگاہ میں جہازوں کی نقل و حرکت کو درپیش خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔ تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ متاثرہ آئل ٹینکر کس ملک کی ملکیت تھا اور اس پر کس ملک کا پرچم لہرا رہا تھا۔تاحال جہاز کی شناخت، عملے کی تعداد، ممکنہ جانی نقصان اور آگ سے ہونے والے مالی نقصان کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ واقعے کی آزادانہ تصدیق بھی نہیں ہوسکی، اس لیے اس حوالے سے ایرانی حکام کے بیان کو دعوے کے طور پر ہی دیکھا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اس گزرگاہ میں کسی بھی قسم کا حملہ، بارودی سرنگوں کی موجودگی یا جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کر سکتی ہے۔