عالمی بساط کا خفیہ کھیل

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
اسی تناظرمیں یہ اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ شام اورعراق کے میدانوں سے بچے کھچے سرگرم شدت پسند گروہوں کے ہزاروں جنگجوں کوافغانستان منتقل کیاگیا۔ان کے بارے میں کہاگیا کہ انہیں ہرات اورمشہدکے راستوں سے ایران میں داخل ہونے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔منصوبہ یہ تھاکہ ایران کے متعددصوبوں میں بیک وقت شورش پیداکی جائے تاکہ ایرانی فوج اورسیکورٹی ادارے داخلی بحران میں الجھ جائیں۔اس سیاسی افراتفری کے دوران بیرونی طاقتوں کوایران کی سیاسی سمت پراثراندازہونے کاموقع مل سکتاتھااوربعد ازاں سیاسی مداخلت کادروازہ کھل سکتاتھا۔جب ایک ریاست اندرونی انتشارمیں گرفتارہوجاتی ہے توبیرونی طاقتوں کیلئیاس کے معاملات میں مداخلت کرناآسان ہوجاتاہے۔ جدید مواصلاتی آلات اورخفیہ راستوں کے استعمال کی اطلاعات بھی اسی منصوبے کاحصہ بتائی گئیں اورگوریلاطرزکی کارروائیوں کامنصوبہ بھی شامل بتایاگیا۔۔
بعض مبصرین کے نزدیک ان تمام خطرات کے بیچ پاکستان کاکردار ایک فیصلہ کن عنصرکے طورپرسامنے آیاکہ اگرسرحدی علاقوں میں سرگرم شدت پسند گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں نہ ہوتیں توصورتِ حال کہیں زیادہ بھیانک ہوسکتی تھی۔ایسے نازک مرحلے پرپاکستان کاکردارنہایت اہمیت اختیارکرگیا۔افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد ہزاروں کلومیٹر پرپھیلی ہوئی ہے اوراس کے بیشتر علاقے دشوارگزار پہاڑی سلسلوں پرمشتمل ہیں۔جہاں سے دراندازی کے امکانات ہمیشہ موجودرہتے ہیں۔پاکستانی سکیورٹی اداروں نے ان اطلاعات کے بعد سرحدی علاقوں میں سخت کارروائیاں کیں اورشدت پسندعناصرکے ٹھکانوں کونشانہ بنایااوران کے نقل وحرکت کے راستوں کومحدود کردیاگیا۔
اس تناظر میں پاکستان کی مسلح افواج کوایک ایسی رکاوٹ کے طورپرپیش کیاجاتاہے جس نے ممکنہ دراندازی کے راستوں کومحدودکر دیا۔دوسری جانب امریکی سیاست میں اسبحران کے حوالے سے بیانات بھی سامنے آئے جن میں ٹرمپ کی سخت زبان اورایران میں عوامی احتجاج کی اپیلیں شامل تھیں۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگریہ کارروائیاں نہ ہوتیں توافغانستان میں موجودہزاروں جنگجو ایران اورپاکستان دونوں کی سرزمین میں داخل ہوکروسیع پیمانے پرخونریزی کاباعث بن سکتے تھے۔اس طرح پاکستان ایک ایسی رکاوٹ بن کرابھراجس نے اس ممکنہ بحران کوپھیلنے سے روک دیا۔
سرحدی علاقوں میں سرگرم عسکری گروہوں کی فہرست بھی کم ہولناک نہیں بتائی جاتی۔ مبصرین کے مطابق ان میں افغانستان کے مختلف صوبوں میں سرگرم عسکری گروہوں میں اسلامک اسٹیٹ صوبہ خراسان کے علاوہ دیگرشدت پسند تنظیموں کے دھڑے بھی شامل بتائے جاتے ہیں جوجوزجان،ننگرہار،کنڑ اورخوست کے علاقوں میں موجودتھے۔بعض رپورٹس یہ دعویٰ بھی کرتی ہیں کہ ایران کے صوبہ سیستان وبلوچستان میں کارروائیوں سے منسلک گروہوں کوافغانستان کے بعض علاقوں میں پناہ گاہیں فراہم کی گئیں۔ان گروہوں کا ہدف نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے حساس علاقوں میں بھی عدم استحکام پیداکرنابتایاجاتاہے۔اطلاعات کے مطابق ان عناصرکونہ صرف ایران بلکہ پاکستان کے حساس علاقوں میں بھی دہشتگردی پھیلانے کاٹاسک دیاگیاتھا۔
اس صورتِ حال میں پاکستان کیلئے یہ محض ہمسایہ ملک کی مددکامعاملہ نہیں بلکہ اپنی داخلی سلامتی کابھی سوال تھا۔یہی وجہ ہے کہ سرحدی نگرانی،انٹیلی جنس تعاون اورعسکری کارروائیوں کے ذریعے اس ممکنہ خطرے کومحدود کرنے کی کوشش کی گئی۔اسی دوران ایک اورمحاذبھی زیرِبحث آیا:کرد مسلح گروہوں کی ممکنہ نقل وحرکت۔ بعض اطلاعات کے مطابق ترکی اورعراق کے سرحدی خطوں سے ایسے جنگجوں کوایران میں داخل کرانے کی کوششوں کوروکنے میں علاقائی تعاون نے اہم کرداراداکیا۔اس صورتِ حال میں پاکستان اورترکی دونوں کے اقدامات کوبعض تجزیہ نگارخطے میں استحکام کی کوشش قراردیتے ہیں۔بعض اطلاعات کے مطابق علاقائی تعاون اورخفیہ معلومات کے تبادلے کے باعث ان منصوبوں ک ناکام بنایا گیا۔اس سلسلے میں پاکستان اورترکی کے اقدامات کو خطے میں استحکام کیلئے اہم قراردیاگیا۔اس پورے منظرنامے میں ایک حقیقت نمایاں ہوکرسامنے آتی ہے کہ افغانستان میں موجود غیر ریاستی عناصرایک ایسابارودی ذخیرہ بن چکے ہیں جوکسی بھی لمحے پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔
اگراس پورے منظرنامے کووسیع ترزاویے سے دیکھاجائے توواضح ہوتاہے کہ مشرقِ وسطی اورجنوبی ایشیاایک نہایت حساس دورسے گزررہے ہیں۔ایسے حالات میں کسی ایک واقعے کادائرہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتابلکہ پورے خطے کواپنی لپیٹ میں لے سکتاہے۔ایک چھوٹاساواقعہ بھی بڑی جنگ کاپیش خیمہ بن سکتاتھا۔بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق اگرافغانستان میں موجودشدت پسند عناصرایران میں داخل ہونے میں کامیاب ہوجاتے توصورت حال ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیارکرسکتی تھی جس میں عالمی طاقتیں بھی ملوث ہوجاتیں۔ 
یوں کہاجا سکتاہے کہ اس پیچیدہ اورخطرناک صورت حال میں پاکستان کی جانب سے سرحدی دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات اور علاقائی تعاون نے ایک ایسے بحران کو پھیلنے سے روکنے میں کرداراداکیاجو باآسانی وسیع جنگ کاسبب بن سکتاتھا۔ اس پس منظرمیں بعض مبصرین پاکستان کوخطے میں استحکام کاایک اہم ستون قراردیتے ہیں جس نے نہ صرف اپنی سرزمین بلکہ ہمسایہ ممالک کے امن کیلئے بھی کردار اداکیا۔بعض مبصرین کے نزدیک یہ وہ لمحہ تھاجب پاکستان نے محض اپنی سرحدوں کانہیں بلکہ پورے خطے کے امن کا دفاع کیا۔تاریخ کے تناظرمں دیکھاجائے توایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کسی ریاست کا ایک فیصلہ پورے خطے کے مستقبل پراثراندازہو۔اگر حالات ذرابھی مختلف رخ اختیارکرتے تو ممکن تھا کہ مشرقِ وسطی ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آجاتاجس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوتے۔اس پس منظرمیں پاکستان کے اقدامات کوبعض حلقے خطے کے استحکام کی ایک اہم کوشش قراردیتے ہیں۔
اگراس پورے منظرنامے کووسیع ترزاویے سے دیکھاجائے توحاصلِ کلام یہ معلوم ہوتاہے کہ مشرقِ وسطیٰ اورجنوبی ایشیاایک ایسے تاریخی موڑپر کھڑے ہیں جہاں چھوٹے سے اقدام کے بھی عالمی اثرات مرتب ہو کتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ے کہ مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی سیاست ایک نئے دوراہے پرکھڑی ہے جہاں طاقت،مفاد اورنظریات کی کشمکش نے پیچیدہ صورت اختیارکرلی ہے۔اگر اس پورے بحران کوایک تمثیل میں سمیٹاجائے تویوں کہاجا سکتاہے کہ عالمی سیاست کی بساط پرمہرے توبہت ہیں،مگر اصل بازی وہی جیتتاہے جوصبر،بصیرت اورتدبرکے ساتھ اپنے قدم بڑھاتاہے۔بعض مبصرین کے نزدیک حالیہ واقعات نے یہ تاثرضرورپیداکیاہے کہ علاقائی تعاون نے ایک ممکنہ بڑے بحران کوٹالنے میں کرداراداکیااوراگرایساہے تویہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن کیلئے ایک اہم موڑبھی ہے۔
پاکستان کی جانب سے سرحدی دہشتگردی کے خلاف سخت اقدامات نے ایک ایسے بحران کوپھیلنے سے روکنے میں کرداراداکیاجوباآسانی ایک وسیع علاقائی جنگ کی صورت اختیار کرسکتاتھا۔یوں کہاجاسکتاہے کہ عالمی سیاست کی اس پرپیچ بساط پرپاکستان نے کم ازکم اس مرحلے پرایک ایساکرداراداکیاجس نے خطے کومزیدبڑے تصادم کی طرف بڑھنے سے روکنے میں مدددی۔یہی وہ لمحہ ہے جب تاریخ خاموشی سے اپنا فیصلہ رقم کرتی ہے اور آنے والی نسلیں اس کے اثرات کوسمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔تاریخ کایہ باب ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ عالمی سیاست کی بساط پرکبھی کبھی ایک ریاست کابروقت اوردانشمندانہ اقدام پورے خطے کی تقدیر بدل دیتاہے۔اگر حالات ذرابھی مختلف رخ اختیارکرتے توممکن تھاکہ مشرقِ وسطی ایک ایسی جنگ کی لپیٹ میں آ جاتاجس کے اثرات پوری دنیاپرمرتب ہوتے۔ایسے میں پاکستان کے اقدامات کوبعض مبصرین ایک ایسے حفاظتی حصارکے طورپر دیکھتے ہیں جس نے اس ممکنہ بحران کومحدود رکھنے میں مدددی۔
یوں محسوس ہوتاہے کہ عالمی سیاست کے اس پرپیچ دورمیں طاقت کے کھیل کے ساتھ ساتھ حکمت،تدبراوربروقت اقدام بھی اہم کردارادا کرتے ہیں۔اگرخطے میں بعض ریاستیں بروقت فیصلے نہ کرتیں توممکن تھاکہ یہ بحران ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہوجاتا۔اس حقیقت نے ایک بارپھریہ ثابت کردیا کہ کبھی کبھی تاریخ کے دھارے کوموڑنے کیلئے ایک مضبوط
 اوردوراندیش فیصلہ ہی کافی ہوتاہے۔