انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ: عالمی بساط اور نادیدہ طاقتیں

 ساجد علی شمس 
عالمی سیاست اور صحافت کے ایوانوں میں ایک اصطلاح اکثر گونجتی رہتی ہے جسے "انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ" کے نام سے جانا جاتا ہے، بظاہر یہ کسی خاص شہر میں واقع کوئی باقاعدہ دفتر تو نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی تحریری آئین موجود ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ دنیا کے طاقتور ترین ممالک، ملٹی نیشنل کارپوریشنز، عالمی مالیاتی اداروں، خفیہ ایجنسیوں اور دفاعی صنعت کے ایسے غیر مرئی اور نادیدہ تحالف کا نام ہے جو زمین کے سیاسی اور معاشی جغرافیے کو ترتیب دیتا ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو پردے کے پیچھے بیٹھ کر طے کرتی ہے کہ کہاں جمہوریت کا سورج طلوع ہوگا، کہاں آمریت کے تاریک سائے رہیں گے، کس ملک کی معیشت ترقی کرے گی اور کس کی معیشت کو قسط وار مفلوج کیا جائے گا۔ اگر ہم تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس عالمی نظام کا لباس اور چہرہ ہر دور میں بدلتا رہا ہے۔ سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں یہ طاقت برطانیہ، فرانس اور سپین جیسی نوآبادیاتی قوتوں کے روپ میں جلوہ گر تھی۔ اس دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی اس کی ایک ایسی روشن مثال تھی جس نے محض تجارت کا بہانہ بنا کر برصغیر جیسے وسیع و عریض خطے کے معاشی اور سیاسی مقدر کا فیصلہ کر ڈالا۔ پھر بیسویں صدی کے اوائل میں دو خوفناک عالمی جنگوں نے طاقت کے اس روایتی مرکز کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ 1944ء￿  میں ہونے والے بریٹن ووڈز معاہدے کے تحت جب ورلڈ بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف جیسے ادارے وجود میں آئے تو دراصل جدید انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کا ایک باقاعدہ اور منظم بنیادی ڈھانچہ وضع ہو گیا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد پیدا ہونے والی سرد جنگ کے دوران دنیا دو واضح بلاکس میں تقسیم رہی لیکن جیسے ہی سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا اور امریکہ کی سرپرستی میں ایک یک قطبی عالمگیر نظام قائم ہوا جس نے اس بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ قوت اور غیر معمولی اختیار فراہم کردیا۔ اس نادیدہ نظام نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے جس سفاکی کا مظاہرہ کیا، تاریخ اس پر گواہ ہے۔ جب بھی کسی قوم پرست یا آزاد خیال رہنما نے اس عالمی بساط کے قواعد و ضوابط سے انحراف کی کوشش کی اسے عبرتناک نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔ 1953ء￿  میں جب ایران کے منتخب وزیراعظم محمد مصدق نے اپنے ملک کے تیل کو قومیانے کا جر?ت مندانہ قدم اٹھایا تو امریکی اور برطانوی خفیہ ایجنسیوں نے مل کر آپریشن ایجیکس کے ذریعے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تاکہ عالمی تیل کی مارکیٹ پر مغربی کمپنیوں کا کنٹرول برقرار رہے۔ اسی سلسلے کی ایک اور دردناک کڑی 1961ء￿  میں افریقہ میں نظر آئی جب آزادی کے سرکردہ رہنما پٹریس لمومبا کو صرف اس جرم کی سزا میں راستے سے ہٹا دیا گیا کہ وہ کانگو کے بے پناہ قدرتی وسائل پر وہاں کے عوام کا حق چاہتے تھے جو بین الاقوامی کارپوریٹ مفادات کو کسی صورت قبول نہ تھا۔ پھر 1973ء￿  میں چلی کے منتخب صدر سلواڈور الیندے کی حکومت کو گرا کر جنرل پنوشے کی سفاک آمریت مسلط کی گئی کیونکہ الیندے کی معاشی پالیسیاں سرمایہ دارانہ اسٹیبلشمنٹ کے اصولوں سے میل نہیں کھاتی تھیں۔ ان تمام تاریخی شہادتوں سے یہ سچائی پوری طرح نکھر کر سامنے آتی ہے کہ اس نظام کے لیے 
جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے الفاظ صرف اور صرف سفارتی نعرے ہیں جبکہ اصل ترجیح ہمیشہ ان کا اپنا اسٹریٹجک اور معاشی مفاد رہی ہے۔ زمانہ بدلا تو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے طریقے بھی بدل گئے۔ آج کے جدید دور میں کسی ملک کو رام کرنے کے لیے افواج یا ٹینک بھیجنے کی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہ کام معاشی ہتھیاروں سے بڑی خاموشی سے انجام دیا جاتا ہے۔ جان پرکنز نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "ایک اکنامک ہٹ مین کے اعترافات" میں اسی بھیانک حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ کس طرح معاشی امداد اور ترقیاتی قرضوں کے خوبصورت جال میں جکڑ کر غریب ممالک کو سود کے ایسے چکر میں پھنسایا جاتا ہے جہاں سے نکلنا ممکن نہیں رہتا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی کڑی شرائط کے نتیجے میں مقروض ممالک کی قومی پالیسیاں ان کے اپنے دارالحکومتوں کے بجائے واشنگٹن، لندن اور برسلز کے ایوانوں میں مرتب ہونے لگتی ہیں اور جیسے ہی کوئی ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچتا ہے، اس کی قومی خودمختاری اور اہم اثاثے بالواسطہ طور پر انہی طاقتوں کے سپرد ہوجاتے ہیں۔ معاشی جال کے ساتھ ساتھ اس نظام کی اصل طاقت ان کا بیانیے اور میڈیا پر مکمل تسلط ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ، ڈجیٹل نیٹ ورکس اور بڑے تھنک ٹینکس کی مدد سے یہ بات بڑی مہارت سے طے کی جاتی ہے کہ دنیا کے سٹیج پر کس کو ہیرو بنا کر پیش کرنا ہے اور کسے ولن کے روپ میں دکھانا ہے۔ سچ اور جھوٹ کی سرحدوں کو اس صفائی سے دھندلا دیا جاتا ہے کہ عام انسان بلاشبہ اسی بیانیے کو عین حقیقت ماننے پر مجبور ہو جاتا ہے جو یہ طاقتیں بنانا چاہتی ہیں۔تاہم، تاریخ کا ایک ازلی سبق یہ بھی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی نظام یا طاقت دائمی نہیں ہوتی۔ آج کی دنیا ایک بار پھر ایک بہت بڑے تاریخی موڑ پر سانس لے رہی ہے۔ چین کا بے مثال معاشی ابھار، روس کا جارحانہ سٹریٹجک موقف اور برکس جیسے نئے معاشی بلاکس کی روز بروز بڑھتی اہمیت اس بات کا واضح پیش خیمہ ہیں کہ پچھلی چند دہائیوں سے قائم مغربی انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے تسلط کو اب شدید چیلنجز کا سامنا ہے اور معاشی و سیاسی طاقت کا محور رفتہ رفتہ مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ ایک ایسا جادوئی اور پراسرار آئینہ ہے جس میں نظر کچھ آتا ہے اور پسِ پردہ ہوتا کچھ اور ہے۔ یہ خالصتاً طاقت اور مفاد کا وہ بے رحم نظام ہے جہاں اخلاقیات سے زیادہ اپنے مقاصد کی پائیداری کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں ترقی پذیر اور کمزور اقوام کے لیے اس کے مضمر اثرات سے بچنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ وہ اندرونی معاشی استحکام، خود انحصاری، معیاری تعلیم کی فراہمی اور آئین کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ جب تک کوئی قوم اندرونی طور پر مستحکم اور یکجا نہیں ہوگی وہ عالمی شطرنج کی اس بساط پر محض ایک ایسا پیادہ بنی رہے گی جس کی قربانی کا فیصلہ ہمیشہ دوسرے لوگ کرتے رہیں گے۔