’مجھے مہنگائی پسند ہے‘، ٹرمپ کے جواب نے امریکا میں نئی بحث چھیڑ دی

’مجھے مہنگائی پسند ہے‘، ٹرمپ کے جواب نے امریکا میں نئی بحث چھیڑ دی

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان اور امریکی معیشت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے متعلق ہے، جس نے سیاسی اور معاشی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
امریکہ میں مئی 2026 میں صارفین کی مہنگائی کی شرح 4 فیصد سے بڑھ گئی، جو گزشتہ تین سالوں کی بلند ترین سطح ہے۔ اس دوران ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کی وجہ سے توانائی اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔  صحافیوں کے سوالات کے جواب میں، صدر ٹرمپ نے حیران کن انداز میں کہا کہ ’مجھے مہنگائی پسند ہے‘، اور کہا کہ ایران کے ساتھ جنگی صورتحال ختم ہوتے ہی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ انہوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ معاشی دباؤ عارضی ہے اور خطے میں استحکام کے بعد قیمتیں کم ہونا شروع ہوجائیں گی۔  
اس بیان پر سیاسی اور معاشی حلقوں سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی امریکی عوام کے لیے بڑا مسئلہ بن سکتی ہے، جبکہ حکومتی حلقے پر امید ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے بعد معیشت بہتر ہو جائے گی۔  یہ صورتحال آنے والے مہینوں میں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک اہم چیلنج ثابت ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب ملک سیاسی طور پر بھی ایک اہم انتخابی مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے۔