وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اکنامک سروے آف پاکستان 2023-2024ء وزیرِ اعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کیا۔
اسلام آباد میں وزیرِ اعظم سے ملاقات کے دوران، وزیرِ خزانہ نے یہ رپورٹ وزیرِ اعظم کو سونپی۔ اس سے قبل، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قومی اقتصادی کونسل سے خطاب میں کہا تھا کہ بجٹ کے حوالے سے صوبوں کے ساتھ کئی ہفتوں سے مشاورت جاری ہے اور وسائل پیدا کرنے کے حوالے سے بات چیت ہو رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جی ڈی پی کی شرح میں تیزی لانے کے لیے ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے برآمدات میں اضافہ ہو۔
وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ معیشت میں میکرو سطح پر بہتری آ رہی ہے، مگر ابھی مزید محنت کی ضرورت ہے، اور ٹیم ورک کے تحت پاکستان کے مفادات میں فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملکی معیشت کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے، مگر مشکلات کے باوجود، پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام پر عمل پیرا رہنے کی کوشش کی ہے، اور حال ہی میں ایم ڈی آئی ایم ایف سے بات چیت کی گئی، جس میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا۔