وفاقی حکومت نے ملک میں غیر قانونی سگریٹوں کے بڑھتے ہوئے کاروبار کو روکنے اور دستاویزی تمباکو صنعت کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اہم اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، فنانس بل 2026 کے ذریعے سگریٹوں پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے موجودہ دو درجوں پر مشتمل نظام کو بدل کر تین درجوں پر مشتمل نئے ٹیکس نظام کا نفاذ کیا جائے گا۔ اس نئے نظام کا مقصد غیر قانونی سگریٹوں کی تجارت کو کم کرنا اور قانونی صنعت کو بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔اس وقت مارکیٹ کا تقریباً 56 فیصد حصہ غیر قانونی سگریٹوں پر مشتمل ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری محصولات کا نقصان ہورہا ہے اور قانونی تمباکو صنعت بھی دباؤ کا شکار ہے۔ بین الاقوامی ڈونر اداروں نے بھی بلند فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شرح اور غیر قانونی تجارت کے حجم پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔موجودہ نظام کے مطابق، جن سگریٹوں کی پیک پر درج خوردہ قیمت 12,500 روپے فی ہزار سگریٹ سے زیادہ ہے، ان پر 16,500 روپے فی ہزار سگریٹ کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد ہوتی ہے۔ اور، جن سگریٹوں کی پیک پر قیمت 12,500 روپے یا اس سے کم ہے، ان پر 5,050 روپے فی ہزار سگریٹ کا ٹیکس لگتا ہے۔
نئے مجوزہ نظام کے تحت، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا تیسرا درجہ متعارف کرایا جائے گا، جس میں شرح تقریباً 3,200 روپے فی ہزار سگریٹ اسٹکس مقرر کی جا سکتی ہے۔ اس اقدام سے قانونی صنعت کو زیادہ مسابقتی ماحول فراہم کرنے اور غیر قانونی سگریٹوں کے رجحان کو کم کرنے کی توقع ہے۔حکومت کا مقصد ہے کہ نئے نظام کے ذریعے محصولات میں اضافہ ہو، غیر قانونی تجارت محدود ہو اور دستاویزی صنعت کو بہتر ریلیف ملے۔ اس اقدام سے ملک میں سگریٹ کاروبار میں شفافیت اور قانونی سرگرمیوں کو فروغ ملنے کی امید ہے۔