حکومت نے معاشی توازن برقرار رکھنے اور درآمدات میں کمی لانے کے لیے 693 مختلف اشیاء پر 5 فیصد سے لے کر 40 فیصد تک کی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔
اس سلسلے میں ایس آر او (Statutory Regulatory Order) بھی جاری کر دیا گیا ہے، جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
اہم نکات:
گاڑیوں کے پرزہ جات (Auto Parts): 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد۔
گھریلو آلات اور گاڑیوں کی کٹس (CKD Kits): 5 فیصد ڈیوٹی لاگو۔
مکمل تیار شدہ گاڑیاں (CBU): ان پر یہ ڈیوٹی لاگو نہیں ہوگی۔
خام مال، صنعتی مشینری اور مخصوص اشیاء: ان پر ریگولیٹری ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے۔
کن اشیاء پر استثنیٰ دیا گیا؟
مقامی آٹو وینڈرز کے لیے خام مال: جو مقامی طور پر گاڑیوں کے پرزے بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسے ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا۔
اسپننگ مشینری میں استعمال ہونے والے ربڑ یا دھات کے رولرز: بھی ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہیں۔
چلغوزہ اور خام ماربل جیسے قدرتی اور مخصوص پی سی ٹی کوڈز والی اشیاء پر بھی ڈیوٹی معاف کی گئی ہے۔
افغانستان سے درآمدات میں نرمی:
مونگ پھلی (Peanuts): افغانستان سے درآمد شدہ مونگ پھلی پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی 10 فیصد تک کم کر دی گئی ہے تاکہ تجارتی توازن برقرار رکھا جا سکے اور ہمسایہ ممالک سے تجارتی روابط کو فروغ دیا جا سکے۔
حکومتی مؤقف:
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد:
غیر ضروری درآمدات پر قابو پانا
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لانا
مقامی صنعت کو فروغ دینا ہے۔
یہ فیصلہ معاشی پالیسیوں کے تسلسل، درآمدی دباؤ کو کم کرنے اور صنعتی خود کفالت کو فروغ دینے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ایس آر او کے تحت مقرر کی گئی نئی ریگولیٹری ڈیوٹیاں فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور درآمدکنندگان کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اشیاء کی درآمد کے وقت ان شرحوں کو مدنظر رکھیں۔
امکان ہے کہ:
اس اقدام کے بعد مارکیٹ میں کچھ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے، خاص طور پر درآمدی گھریلو مصنوعات اور آٹو پارٹس کے شعبے میں، جبکہ مقامی صنعت کو ایک بڑا بوسٹ ملنے کی امید ہے۔