وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں اسلام آباد پر دھاوے کو ناکام بنانے پر عوام، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس جتھہ بندی اور تخریب کاری کا ہر صورت خاتمہ کرنا ہوگا کیونکہ اس سے نہ صرف ملک کے امن و امان کو خطرہ ہے بلکہ معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
احتجاج اور اس کے اثرات:
وزیر اعظم نے کہا کہ احتجاج کے باعث زندگی کے تمام معاملات معطل ہوچکے تھے۔ مزدور طبقہ اور صنعتکاروں کو شدید نقصان پہنچا، جبکہ اسٹاک مارکیٹ کو ایک دن میں ساڑھے تین ہزار پوائنٹس کا نقصان ہوا۔ اسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہا اور روزمرہ زندگی متاثر ہوئی۔انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں بھی دھرنوں کے ذریعے ملک کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ چینی صدر کا دورہ منسوخ ہونے اور ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان عناصر کو پاکستان کی ترقی اور استحکام ہضم نہیں ہوتا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی:
شہباز شریف نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور انٹیلی جنس اداروں نے اسلام آباد دھاوے سے نمٹنے کے لیے بہترین حکمت عملی اپنائی۔ وزیر اعظم نے وزیرداخلہ محسن نقوی اور ان کی ٹیم کے ساتھ سپہ سالار اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اور ریاستی اداروں کے تعاون سے شرپسندوں کے منصوبے ناکام بنائے گئے۔
سخت اقدامات کا عزم:
وزیر اعظم نے کہا کہ تخریب کاری کو سیاست کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے عدالتوں پر زور دیا کہ 9 مئی کے واقعات کے ملزمان کو بروقت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے حالات سے بچا جا سکے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کی ترقی کے راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر صوبائی حکومتوں کو اپنی توجہ ان علاقوں پر مرکوز کرنی چاہیے تھی۔ تاہم ان لوگوں نے عوام کی خدمت کرنے کے بجائے اسلام آباد چڑھائی کو ترجیح دی۔
حتمی پیغام:
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو کسی صورت قربان نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے قوم کو فیصلہ کرنے کی دعوت دی کہ ملک کو آگے لے جانا ہے یا تخریب کاری کے چنگل میں پھنسا رہنے دینا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ان فسادیوں کو مزید موقع فراہم نہیں کرے گی اور ان کے مذموم عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا۔