صوبے بھر میں غیر قانونی صنعتی یونٹس کو فوری ہٹانے اور کریک ڈاؤن شروع کرنے کے احکامات ،لاہور میں 5 ہزار 206 غیر قانونی صنعتوں کی نشاندہی
لاہور: ( کرائم رپورٹر) سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیرصدارت انسدادِ سموگ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی صنعتی یونٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات کی روشنی میں لاہور سمیت صوبے بھر کے رہائشی علاقوں اور گھروں میں قائم غیر قانونی صنعتی یونٹس کو فوری ہٹانے اور کریک ڈاؤن شروع کرنے کے احکامات جاری کیے گئے۔سینئر وزیر نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی صنعتیں ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب بن رہی ہیں، غیر قانونی فیٹ میلٹنگ یونٹس کے خلاف سخت کارروائی اور منظور شدہ اربن انڈسٹریز کو مرحلہ وار سپیشلائزڈ زونز میں منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق رہائشی علاقوں میں قائم صنعتوں کی منتقلی کے لیے جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جبکہ صنعتی یونٹس کے لیے جاری تمام این او سیز فوری منسوخ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، این او سی جاری کرنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ تار اور پلاسٹک جلانے والی صنعتیں شہری فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جبکہ چربی پگھلانے والے یونٹس، ماربل کٹنگ، لکڑی کے کارخانے اور دیگر چھوٹی صنعتیں بھی گردوغبار اور آلودگی کا سبب ہیں، پلاسٹک جلنے سے خارج ہونے والی گیسیں سانس، پھیپھڑوں اور سرطان سمیت مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں۔لاہور میں مجموعی طور پر 5 ہزار 206 غیر قانونی صنعتوں کی نشاندہی اور نقشہ سازی مکمل کر لی گئی ہے، جن میں سے 4 ہزار 514 رہائشی حدود میں واقع ہیں، ان صنعتوں کو ماحولیاتی اثرات کی بنیاد پر پانچ درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔306 صنعتیں انتہائی زیادہ آلودگی پیدا کرنے جبکہ 676 صنعتیں زیادہ آلودگی پیدا کرنے والی
قرار دی گئیں، 539 صنعتیں درمیانی سطح کی آلودگی پیدا کرتی ہیں، 2,925 صنعتیں کم آلودگی پیدا کرنے والی ہیں، 760 صنعتوں کو انتہائی کم آلودگی کے زمرے میں رکھا گیا۔