ّّٖٖٖپنجاب کے رہائشی علاقوں اور گھروں میں قائم غیر قانونی صنعتی یونٹس فوری ہٹانے کا حکم

لاہور میں 5 ہزار 206 غیر قانونی صنعتوں کی نشاندہی اور نقشہ سازی مکمل، 4 ہزار 514 رہائشی حدود میں واقع ، ماحولیاتی اثرات کی بنیاد پر پانچ درجوں میں تقسیم 
صنعتوں کی منتقلی کے لئے  جامع منصوبہ تیار ،صنعتی یونٹس کے لئے  جاری تمام این او سیز فوری منسوخ کرنے کے احکامات جاری  کر دئے گئے
 چھوٹی صنعتیں گردوغبار اور آلودگی کا سبب، پلاسٹک جلنے سے خارج ہونے والی گیسیں سانس، پھیپھڑوں اور سرطان سمیت مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں
لاہور(سپیشل رپورٹر )صوبہ پنجاب میں  رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی صنعتی یونٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب کی زیرصدارت انسدادِ سموگ سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا،  اجلاس میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی ہدایات کی روشنی میں لاہور سمیت صوبے بھر کے رہائشی علاقوں اور گھروں میں قائم غیر قانونی صنعتی یونٹس کو فوری ہٹانے اور کریک ڈائون  شروع کرنے کے احکامات جاری کئے  گئے۔سینئر وزیر نے کہا کہ رہائشی علاقوں میں قائم غیر قانونی صنعتیں ماحولیاتی آلودگی کا بڑا سبب بن رہی ہیں، غیر قانونی فیٹ میلٹنگ یونٹس کے خلاف سخت کارروائی اور منظور شدہ اربن انڈسٹریز کو مرحلہ وار سپیشلائزڈ زونز میں منتقل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق رہائشی علاقوں میں قائم صنعتوں کی منتقلی کے لئے  جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جبکہ صنعتی یونٹس کے لئے  جاری تمام این او سیز فوری منسوخ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، این او سی جاری کرنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ تار اور پلاسٹک جلانے والی صنعتیں شہری فضائی آلودگی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں جبکہ چربی پگھلانے والے یونٹس، ماربل کٹنگ، لکڑی کے کارخانے اور دیگر چھوٹی صنعتیں بھی گردوغبار اور آلودگی کا سبب ہیں، پلاسٹک جلنے سے خارج ہونے والی گیسیں سانس، پھیپھڑوں اور سرطان سمیت مختلف بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں۔لاہور میں مجموعی طور پر 5 ہزار 206 غیر قانونی صنعتوں کی نشاندہی اور نقشہ سازی مکمل کر لی گئی ہے، جن میں سے 4 ہزار 514 رہائشی حدود میں واقع ہیں، ان صنعتوں کو ماحولیاتی اثرات کی بنیاد پر پانچ درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔306 صنعتیں انتہائی زیادہ آلودگی پیدا کرنے جبکہ 676 صنعتیں زیادہ آلودگی پیدا کرنے والی قرار دی گئیں، 539 صنعتیں درمیانی سطح کی آلودگی پیدا کرتی ہیں، 2,925 صنعتیں کم آلودگی پیدا کرنے والی ہیں، 760 صنعتوں کو انتہائی کم آلودگی کے زمرے میں رکھا گیا۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ صنعتی منتقلی کو قلیل، درمیانی اور طویل مدتی مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، بڑی صنعتوں  کیلئے  رہائشی علاقوں سے باہر نئے صنعتی زونز میں اراضی فراہم کی جائے گی جبکہ بجلی، پانی، سڑکوں اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے گی، صنعتکاروں کو رعایتی نرخوں پر زمین، نئی مشینری کی درآمد میں سہولیات اور ویسٹ ٹریٹمنٹ سمیت دیگر یوٹیلیٹیز فراہم کی جائیں گی۔صنعتی منتقلی کے لئے  ایک مستقل عملدرآمد کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جس میں محکمہ ماحولیات، لوکل گورنمنٹ، پیرا، پولیس، ایل ڈی اے، انڈسٹریز اور بورڈ آف ریونیو کے نمائندگان شامل ہوں گے، کمیٹی منتقلی کے ٹائم لائنز، قانونی اصلاحات اور شکایات کے ازالے کی نگرانی کرے گی۔حکام کا کہنا ہے کہ 50 سے زائد سٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور 14 اجلاسوں کے بعد بین الاقوامی کیس سٹڈیز اور مقامی تجربات کی روشنی میں سفارشات مرتب کی گئی ہیں، جن پر مرحلہ وار عملدرآمد کیا جائے گا۔