آئینی عدالت کا ہائیڈرو کاربن سے بھرے آئل ٹینکرز کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم

 تین سال سے آتش گیر مواد سے بھرے ٹینکرز کسٹم حکام نے بند کر رکھے ہیں، کسی کے سگریٹ جلانے سے آگ لگ گئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا:جسٹس حسن رضوی
اسلام آباد (آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے  ہائیڈرو کاربن سے بھرے آئل ٹینکرز کا لیبارٹری ٹیسٹ کرانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ 15 روز کے اندر ٹیسٹ مکمل کیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر ٹیسٹ درست آیا تو مناسب سیکیورٹی کے عوض ٹینکرز کو رہا کیا جائے، جبکہ لیبارٹری رپورٹ کے بعد متعلقہ فورم 30 روز میں معاملے کا فیصلہ کریایرانی تیل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران کسٹم حکام کی جانب سے آئل ٹینکرز کو تین سال سے بند رکھنے پر شدید برہمی کااظہارکرتے ہو ئے جسٹس حسن رضوی نے ریمارکس دیے کہ تین سال سے آتش گیر مواد سے بھرے ٹینکرز کسٹم حکام نے بند کر رکھے ہیں، اگر کسی کے سگریٹ جلانے سے آگ لگ گئی تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئل ٹینکرز کو اس طرح بند رکھنا انتہائی خطرناک ہے اور اس اقدام سے ٹینکروں کے ڈرائیور بھی بے روزگار ہوگئے ہوں گیانھوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روزدیے ہیں ۔جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی ۔اس دوراں کسٹم حکام کے وکیل وسیم سجاد نے مقف اختیار کیا کہ آئل ٹینکرز میں ایران سے پٹرول اسمگل کیا گیا ہے، جبکہ امپورٹرز کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ٹینکرز میں ایرانی پٹرول نہیں بلکہ لائٹ ایلی فیٹک ہائیڈرو کاربن موجود ہے۔اس موقع پر جسٹس روزی خان نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک بڑا کاروبار ہے، ہائیڈرو کاربن میں کیمیکل ملا کر پٹرول تیار کیا جا سکتا ہے۔بعدازاں  عدالت نے سماعت ملتوی کردی