آزاد کشمیر کے حالات خراب کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا رانا ثناء اللہ

 اپوزیشن لیڈر کا  پاکستان کے خلاف اس انداز میں بات کرنا درست نہیں‘انہوں نے اپنے خطاب میں حقائق کے برعکس بات کی ہے
کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں  ‘ یہ اڑھائی سال قبل بنائی گئی‘مہاجر نشستیں ختم کرنے ہمارا اختیار نہیں
گلگت بلتستان میں شفاف اور منصفانہ انتخابات ہوئے ‘ اس حوالے سے اعتراضات درست نہیں ہیں : سینیٹ اجلاس میں  اظہار خیال
اسلام آباد(آن لائن ) وزیر اعظم کے مشیر  برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء￿  اللہ نے ایوان بالا کو بتایا ہے  آزاد کشمیر کے حالات خراب کرنے اور کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا،،انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میں شفاف اور منصفانہ انتخابات منعقد ہوئے ہیں اس حوالے سے اعتراضات درست نہیں ہیں ۔بدھ کو اپوزیشن لیڈر کی تقریر کا جواب دیتے ہوئے سینیٹر رانا ثناء￿  اللہ  نے کہاکہ اپوزیشن لیڈر کو ملک اور پاکستان کے خلاف اس انداز میں بات کرنا درست نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن نے اپنی تقریر میں حقائق کے برعکس بات کی ہے۔گلگت بلتستان کے 23حلقوں میں پیپلز پارٹی اور 24حلقوں میں مسلم لیگ ن جبکہ 14حلقوں میں اس جماعت نے امیدوار کھڑے کئے جس کا وہ زکر کر رہے تھے اور سب جماعتوں کے رہنمائوں میں الیکشن کمیشن سے اجازت لیکر پولنگ کی۔انہوں نے کہاکہ جی بی الیکشن میں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا ہے اور پورا دن پرآمن طریقے سے پولنگ ہوتی رہی ہے اور کسی قسم کی شکایت نہیں آئی ہے اور نتیجہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہاکہ جس انتخابات کو پوری دنیا آزاد اور منصفانہ مانتی ہے اس الیکشن کو اپوزیشن لیڈر دھاندلی زدہ کہہ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کشمیر ایکشن کمیٹی کا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس کا وجود ڈھائی سال قبل آیا تھا یہ تاجروں کی ایک کمیٹی ہے اور اس کمیٹی نے دو مطالبات کئے ایک یہ کہ آزاد کشمیر کے عوام کو کم قیمت بجلی دی جائے۔اسی طرح گندم کا جو وعدہ تھا وہ پورا کیا جائے اس پر دھرنا ہوا اور پرتشدد مظاہروں کے بعد حکومت نے کامیاب مذاکرات کے بعد 23ارب روپے کا پیکج دینے کی منظور ی دی۔انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کے بعد آزاد کشمیر میں 2ہزار روپے فی من گندم اور 3روپے فی یونٹ بجلی فراہم کی جارہی ہے۔اس کے بعد ایکشن کمیٹی نے حکومت پاکستان کا شکریہ ادار کرنے کی بجائے مذید 38مطالبات لے آئے اور لانگ مارچ کی دھکمی دیدی۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے پر وزیر اعظم پاکستان نے ایک کمیٹی بنائی جس میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اراکین شامل تھ اور ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کرکے 37مطالبات پر تحریری معاہدہ ہوا جس پر دونوں اطراف سے دستخط تھے۔انہوں نے کہاکہ اس معاہدے میں ایف آئی آر ز کا خاتمہ اور ترقیاتی منصوبے تھے جس پر وزیر اعظم نے آمادگی ظاہر کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان کا ایک مطالبہ یہ تھا کہ مہاجرین کی 12سیٹوں کو ختم کیا جائے اور جو بھی منتخب ہوئے ہیں ان کو وزیر نہ بنایا جائے اور ان کو ترقیاتی فنڈز نہ دئیے جائیں اور ان کو ملازمتوں میں کوٹہ نہ دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ ایکشن کمیٹی کو بتایا گیا کہ سیٹیں ختم کرنا ہمارا ختیار نہیں ہے یہ سیٹیں ان لوگوں کے پاس ہیں جو ہندوستان کے ظلم کی وجہ سے گھر بار چھوڑ کر پاکستان آئے ہیں اگر ان کی نمائندگی ختم ہوجائے تو یہ زیادتی ہوگی۔انہوںنے کہاکہ اس پر فیصلہ ہوا کہ چھ اراکین پر مشتمل کمیٹی بنا کر معاملے کو قانونی طور پر دیکھا جائے گا مگر انہوں نے دیدہ دانستہ 9جون کو احتجاج کا الٹی میٹم دیدیاکیونکہ ان کو معلوم تھا کہ آزاد کشمیر کے اگلے انتخابات اگست تک ہونے ہیں