بنگلہ دیشی سیاست اور انقلاب کا سوال

سلمان احمد قریشی
بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کے چیئرمین  طارق رحمان نے بنگلہ دیش کے وزیرِاعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔ان کی جماعت نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں دو تہائی اکثریت حاصل کی۔60 سالہ طارق رحمان سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیاء کے بیٹے ہیںجبکہ ان کے والد ضیاء الرحمن ملک کے سابق صدر تھے۔حلف برداری کی تقریب روایتی مقام کے بجائے پارلیمنٹ ہاؤس کے ساؤتھ پلازہ میں کھلے آسمان تلے منعقد ہوئی۔ صدر محمدشہاب الدین نے نئے وزیرِاعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔ تقریب میں چین، بھارت اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے نمائندے بھی شریک تھے۔بی این پی تقریبا دو دہائیوں بعد 212 نشستوں کے ساتھ دوبارہ اقتدار میں آئی ہے۔ جماعتِ اسلامی نے بھی 2013 کی پابندی ختم ہونے کے بعد پہلی بار انتخابات میں حصہ لیا اور 68 نشستیں حاصل کیں۔ سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ کو الیکشن کمیشن نے رجسٹریشن منسوخ ہونے کے بعد انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔اپنے پہلے خطاب میں  طارق رحمان نے امن و امان برقرار رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی قسم کی بدامنی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کارکنوں سے انتقامی کارروائیوں سے گریز کی اپیل بھی کی۔
جنوبی ایشیا کی سیاست میں بنگلہ دیش ایک منفرد مثال ہے۔ ایک طرف معاشی ترقی کی کہانی ہے تودوسری طرف سیاسی کشمکش  ہے۔ ایک طرف مذہبی معاشرہ ، دوسری طرف آئینی سیکولر اصول ہیں۔ ایسے میں یہ سوال بار بار اٹھایا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش میں انقلاب کیوں نہیں آیا۔۔؟
اسی طرح  دیگر سوالات بھی موجود ہیں اگر عوامی بے چینی موجود تھی تو پھر وہی پرانی جماعتیں کیوں جیتتی ہیں۔۔؟ جماعتِ اسلامی کو ووٹ کس بنیاد پر ملاہے۔۔؟ کیا مستقبل میں وہ اقتدار حاصل کر سکتی ہے اور طلبہ و نوجوان کہاں کھڑے ہیں۔۔؟
پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ انقلاب محض غصے یا احتجاج کا نام نہیں ہوتا بلکہ قیادت، اتحاد اور ایک واضح متبادل نظام کا تقاضا کرتا ہے۔ بنگلہ دیش میں بڑے عوامی اجتماعات اور احتجاج ضرور ہوئے مگر وہ ہمہ گیر انقلابی تحریک میں تبدیل نہ ہو سکے۔ اس کی پہلی بڑی وجہ سیاست پر دو جماعتوں کا طویل غلبہ ہے۔ ملک کی سیاست برسوں سے عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ عوام کے سامنے کوئی مضبوط، منظم اور قابلِ اعتماد تیسرا متبادل سامنے نہیں آ سکا۔دوسری اہم وجہ ریاستی کنٹرول اور ادارہ جاتی گرفت ہے۔ حکمران قیادت نے انتظامیہ، عدلیہ اور سکیورٹی ڈھانچے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، جس کے باعث اپوزیشن کی تحریکیں وسعت اختیار کرنے سے پہلے ہی محدود ہو گئیں۔ تیسرا عنصر معاشی بہتری کا رہا۔ گارمنٹس انڈسٹری کی غیر معمولی ترقی، خواتین کی افرادی قوت میں اضافہ اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں نے متوسط طبقے کو یہ احساس دیا کہ نظام مکمل ناکام نہیں ہوا۔ایک بنیادی سیاسی اصول ہے کہ جب معیشت کسی حد تک چل رہی ہو تو انقلابی جذبات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ چوتھا پہلو اپوزیشن کی باہمی تقسیم ہے۔ جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر متفق نہ ہو سکیں، جس سے عوامی غصہ منظم سمت اختیار نہ کر سکا۔ یوں انقلاب کا بیانیہ موجود رہا مگر عملی صورت اختیار نہ کر سکا۔
اس تناظر میں جماعتِ اسلامی کے کردار کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ابوالاعلیٰ مودودی کی فکر سے جنم لینے والی جماعت اسلامی پاکستان نے پاکستان میں آئینی اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کی۔ اس کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ نے جامعات میں فکری اثرات مرتب کیے۔ دوسری جانب جماعت اسلامی بنگلہ دیش کا تاریخی پس منظر 1971 کی جنگِ آزادی سے جڑا ہے جہاں اس کے بعض رہنماؤں پر سنگین الزامات لگے۔ اسی باعث بنگلہ دیش میں جماعت کی شناخت ایک تاریخی تنازع سے متاثر رہی۔ نظریاتی بنیاد مشترک ہونے کے باوجود دونوں ممالک میں عوامی قبولیت مختلف ہے۔ پاکستان میں جماعت کو ایک نظریاتی اپوزیشن کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش میں اس پر ماضی کا سایہ گہرا ہے۔
یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ کیا بنگلہ دیش میں مذہب کے نام پر ووٹ پڑتا ہے۔۔؟ بنگلہ دیش بلاشبہ ایک مذہبی معاشرہ ہے مگر سیاست مکمل طور پر مذہبی بنیادوں پر استوار نہیں۔ آئین میں اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی سیکولر اصول بھی شامل ہیں۔ جماعت اسلامی بنگلہ دیش کو ایک منظم ووٹ بینک ضرور حاصل ہے، خاص طور پر مذہبی حلقوں اور شہری متوسط طبقے کے ایک حصے میں، لیکن وہ تنہا اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ووٹنگ پیٹرن میں مقامی ترقیاتی کام، روزگار کے مواقع، قیادت کی ساکھ اور خاندانی سیاسی وابستگی زیادہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بنگلہ دیش کی سیاست میں طلبہ کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ 1952 کی لسانی تحریک سے لے کر آمریت مخالف جدوجہد تک نوجوانوں نے سیاسی تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ڈھاکا یونیورسٹی طویل عرصے تک سیاسی شعور کا مرکز رہی۔ تاہم حالیہ برسوں میں کیمپس سیاست پر حکومتی اثرورسوخ بڑھا، جس سے آزاد طلبہ تحریکیں محدود ہوئیں۔ اس کے باوجود سوشل میڈیا نے نئی نسل کو اظہار کا متبادل پلیٹ فارم فراہم کیا۔ یہی نوجوان طبقہ مستقبل میں کسی بڑی تبدیلی کا محرک بن سکتا ہے۔
شیخ حسینہ نے خود کو اپنے والد شیخ مجیب الرحمن کے سیاسی ورثے کی امین کے طور پر پیش کیا۔ ان کے دور میں معاشی ترقی ہوئی، انفراسٹرکچر بہتر ہوا اور بھارت کے ساتھ تعلقات مضبوط ہوئے۔ تاہم ساتھ ہی اپوزیشن پر دباؤ، میڈیا پر قدغنیں اور انسانی حقوق سے متعلق الزامات بھی سامنے آئے۔ بھارت نواز حکومت کا تاثر گہرا ہوا اور ناقدین نے اسے خودمختاری کے سوال سے جوڑا۔ اپوزیشن حلقوں کی سخت تنقید کے باوجود انہوں نے ریاستی ڈھانچے پر اپنی گرفت مضبوط رکھی، جس سے اقتدار میں تسلسل برقرار رہا۔ طلبہ تحریکوں اور عوامی دباؤ کے نتیجے میں ان کے اقتدار کو شدید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا اور سیاسی منظرنامہ غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہوا۔
اگر  آئندہ نئے انتخابات کا انعقاد مکمل شفافیت کے ساتھ ہوتا ہے اور تمام جماعتوں کو مساوی مواقع ملتے ہیں تو نتائج سیاسی توازن کو بدل سکتے ہیں۔ بصورت دیگر طاقت کا ارتکاز مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں یہ امکان موجود ہے کہ اگر معاشی کارکردگی کمزور ہوئی تو متحدہ اپوزیشن ابھر سکتی ہے اور سیاسی بساط پلٹ سکتی ہے۔ نوجوان قیادت کے ابھرنے کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتاجو روایتی سیاست کو چیلنج دے سکتی ہے۔ مذہبی جماعتوں کا کردار غالب امکان یہی ہے کہ وہ اتحادی سیاست تک محدود رہیں گی۔
حقیقت یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں مکمل نظامی انہدام کی کیفیت پیدا نہیں ہوئی، اسی لیے انقلاب نہیں آیا۔ معاشی ترقی، ریاستی گرفت اور اپوزیشن کی کمزوری نے بڑی تبدیلی کو روکے رکھا۔ جماعتِ اسلامی دونوں ملکوں میں ایک نظریاتی جڑ رکھتی ہے مگر تاریخی تجربات نے اس کی سمت اور عوامی مقام کو مختلف بنا دیا۔ بنگلہ دیش نہ مکمل طور پر لبرل ہے اور نہ خالص مذہبی ریاست ہے۔ یہ ایک عملی، ترقی پسند مگر سماجی طور پر مذہبی معاشرہ ہے، جہاں سیاست، معیشت اور نظریہ مسلسل باہم دست و گریباں ہیں۔
آنے والے برسوں میں اصل سوال یہی ہوگا کہ کیا وہاں جمہوری تنوع کو وسعت ملے گی یا طاقت کا ارتکاز مزید مستحکم ہوگا۔ اگر سیاسی قوتیں باہمی برداشت، شفاف انتخابات اور ادارہ جاتی توازن کو ترجیح دیں تو بنگلہ دیش ایک مستحکم جمہوری ماڈل بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر انقلاب کا سوال پھر اٹھے گامگر جواب شاید وہی ہوگا کہ انقلاب صرف غصے سے نہیں، متبادل قیادت اور اجتماعی بصیرت سے جنم لیتا ہے۔