صادق آباد میں بچوں کے گردے چوری کا دعویٰ جھوٹا نکلا، اصل حقیقت سامنے آگئی

صادق آباد میں بچوں کے گردے چوری کا دعویٰ جھوٹا نکلا، اصل حقیقت سامنے آگئی

ویب ڈیسک :سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو اور اس کے ساتھ کیے گئے دعوے میں کہا گیا تھا کہ پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے شہر صادق آباد میں درجنوں بچوں کے گردے نکال لیے گئے ہیں۔

 تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہوا ہے۔

  جھوٹا دعویٰ:
سوشل میڈیا پر 2 جون 2025 کو ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں کئی بچے اسپتال کی چارپائیوں پر لیٹے ہوئے نظر آ رہے تھے اور ان کے پیٹ کے نچلے حصے پر پٹیاں بندھی ہوئی تھیں۔ دعویٰ کیا گیا:"صادق آباد میں پتھری کی سرجری کے بہانے 25 بچوں کے گردے نکال لیے گئے!"یہ پوسٹ لاکھوں افراد تک پہنچی اور شدید عوامی تشویش کا باعث بنی۔

  حقیقت کیا ہے؟
فیکٹ چیک ٹیم نے ویڈیو کا ریورس امیج سرچ کیا تو اس کا سراغ ایک نجی نیوز چینل کی 31 مئی 2025 کی رپورٹ سے ملا۔ اصل واقعہ کے مطابق:صادق آباد کے توحید میڈیکل کمپلیکس میں درجنوں بچوں کو پیٹ درد کی شکایت پر لایا گیا۔اسپتال کے ڈاکٹروں نے غلط تشخیص کرتے ہوئے ان تمام بچوں کی اپینڈکس کی غیر ضروری سرجری کر دی۔یہ ایک طبی غفلت کا کیس تھا، نہ کہ اعضا کی چوری کا۔معاملہ منظرِ عام پر آنے کے بعد:اسپتال کو سیل کر دیا گیا۔کیس کو پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے سپرد کر دیا گیا۔نیوز رپورٹ میں وہی مناظر شامل تھے جو وائرل ویڈیو میں موجود ہیں، البتہ کسی بھی جگہ گردے نکالنے یا اعضا کی چوری کے الزامات کی تصدیق نہیں ہوئی۔

  نتیجہ:
سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی پوسٹس غلط معلومات پر مبنی ہیں۔یہ ویڈیو گردے نکالنے کا نہیں بلکہ غلط میڈیکل پریکٹس یعنی طبی غفلت کا کیس ہے۔

  یاد رکھیں:
غیر تصدیق شدہ اطلاعات کو پھیلانے سے گریز کریں۔ ایسے معاملات میں مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ افواہوں سے عوامی خوف اور بداعتمادی نہ پھیلے۔