پشاور: قومی احتساب بیورو (نیب) نے خیبر پختونخوا میں مبینہ بدعنوانی، مالی بے ضابطگیوں اور سرکاری فنڈز کے ممکنہ غبن سے متعلق اہم مقدمات میں تحقیقات کا عمل تیز کردیا ہے۔
تاہم جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف تحقیقات تیز کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کو غلط قرار دیا گیا ہے۔نجی نیوز چینل کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کے ذریعے یہ تاثر دیا گیا کہ نیب نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف کارروائیوں میں تیزی پیدا کردی ہے، تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ یہ دعوے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے تیار کردہ ویڈیو کے ذریعے پھیلائے گئے اور ان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ نیب ذرائع کے مطابق اس معاملے میں صورتحال پہلے جیسی ہی ہے۔دوسری جانب نیب خیبر پختونخوا میں مالی بے ضابطگیوں سے متعلق مختلف اہم مقدمات پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نے صوبے میں مبینہ کرپشن کے مقدمات اور ترقیاتی منصوبوں میں مالی بے ضابطگیوں سے متعلق امور پر گفتگو کی ہے۔
اپر کوہستان میں 37 ارب روپے سے زائد کے مبینہ فراڈ کی تحقیقات
خیبر پختونخوا میں جاری تحقیقات میں اپر کوہستان کے ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مبینہ مالی فراڈ کا معاملہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس کیس میں سرکاری مالیاتی طریقہ کار میں مبینہ ردوبدل کے ذریعے 37 ارب روپے سے زائد کی رقم میں بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے ہیں۔تحقیقاتی ادارے مبینہ غیر قانونی ادائیگیوں، مالی لین دین اور رقوم کی منتقلی کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ سرکاری فنڈز کہاں اور کس مقصد کے لیے استعمال ہوئے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔نیب ماضی میں اپر کوہستان کیس میں اربوں روپے مالیت کے اثاثوں کا سراغ لگانے اور رقوم کی وصولی سے متعلق پیش رفت بھی بتا چکا ہے۔ تاہم مقدمے میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ شواہد اور عدالتی کارروائی کے مطابق ہوگا۔
ترقیاتی منصوبے بھی نیب کی توجہ کا مرکز
رپورٹ کے مطابق صوبے کے شہری ترقیاتی منصوبوں میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ نیب ان معاملات میں سرکاری رقوم کے استعمال، مالی ریکارڈ اور مشتبہ ادائیگیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ان تحقیقات کا بنیادی مقصد مبینہ بدعنوانی کے حقائق سامنے لانا، سرکاری خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا تعین کرنا اور شواہد کی بنیاد پر ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان سے متعلق دعوؤں کی تردید
مولانا فضل الرحمان کے خلاف تحقیقات تیز کیے جانے سے متعلق وائرل ویڈیو کے معاملے میں رپورٹ نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے دعوؤں اور نیب کی حقیقی کارروائیوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔ کسی ویڈیو یا غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹ کو سرکاری تحقیقات کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔رپورٹ میں نیب ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ مولانا فضل الرحمان کے معاملے میں کوئی نئی پیش رفت سامنے نہیں آئی جس سے تحقیقات تیز ہونے کے دعوے کی تصدیق ہوتی ہو۔
سیاسی صورتحال میں تحقیقات کی اہمیت
خیبر پختونخوا میں جاری احتسابی کارروائیاں ایسے وقت میں زیر بحث آئی ہیں جب صوبے کی سیاسی صورتحال اور حکومتی معاملات پر کشیدگی کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ایسے ماحول میں احتسابی اداروں کی کارروائیوں سے متعلق درست اور مستند معلومات کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔