وفاقی بجٹ کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 100 انڈیکس نئی بلندی پر پہنچ گیا

وفاقی بجٹ کے بعد پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی تیزی، 100 انڈیکس نئی بلندی پر پہنچ گیا

کراچی: وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا، جس کے نتیجے میں 100 انڈیکس میں 1698 پوائنٹس کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا۔

اس ریکارڈ تیزی کے ساتھ 100 انڈیکس پہلی بار 1 لاکھ 23 ہزار 723 پوائنٹس کی نفسیاتی حد عبور کر گیا، جو کہ اسٹاک مارکیٹ کی تاریخ میں ایک نیا سنگِ میل ہے۔

سرمایہ کاری میں تیزی کی وجوہات:
تجزیہ کاروں اور ماہرین معاشیات کے مطابق مارکیٹ میں اس غیرمعمولی تیزی کی متعدد وجوہات ہیں:

وفاقی بجٹ 2025-2026 میں معاشی استحکام کے اشارے
حکومت کی دوستانہ مالیاتی پالیسیوں کا تسلسل
آئی ایم ایف سے ممکنہ معاہدے کی امید
بین الاقوامی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں اضافہ
کرنسی کی قدر میں بہتری اور افراطِ زر میں کمی کی توقع
کن شعبوں نے نمایاں کارکردگی دکھائی؟
مارکیٹ میں تیزی کے دوران مختلف کلیدی سیکٹرز میں نمایاں سرمایہ کاری دیکھنے کو ملی، جن میں شامل ہیں:

بینکنگ سیکٹر: کم شرح سود کے باوجود پرافٹ گروتھ کی توقعات
آئل اینڈ گیس: عالمی قیمتوں میں بہتری اور مقامی پیداوار میں اضافہ
سیمنٹ انڈسٹری: ترقیاتی منصوبوں میں اضافے کے باعث طلب میں اضافہ
ٹیکنالوجی اسٹاکس: برآمدات اور فری لانسنگ میں تیزی
سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال:
کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں کاروبار دوست پالیسیاں متعارف کرانے سے سرمایہ کاروں میں مثبت جذبات پیدا ہوئے ہیں، جس کے اثرات اسٹاک مارکیٹ پر واضح نظر آ رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ معاشی اور پالیسی رجحانات برقرار رہے تو پاکستان اسٹاک مارکیٹ مزید ریکارڈ سطحیں عبور کر سکتی ہے۔

نتیجہ:
پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں اس غیر معمولی تیزی کو ملکی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا جا رہا ہے، جو کہ نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے بھی ایک حوصلہ افزا پیغام ہے۔