لاہور کے تھانہ ڈیفنس بی کے علاقے میں پیش آیا ہے جہاں سوشل میڈیا پر معصوم جانوروں پر مبینہ تشدد اور انہیں مارنے کی دھمکیاں دینے والی خاتون خنسا کے خلاف پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔
مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں جانوروں پر ظلم کی روک تھام سے متعلق قوانین سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔
مقدمے کی تفصیلات:
ایف آئی آر کے مطابق، اینمل اینڈ ریسکیو سنٹر کو کچھ تصاویر اور ویڈیوز موصول ہوئیں جن میں ایک خرگوش کو سر پر شدید چوٹ کی وجہ سے مردہ حالت میں دکھایا گیا۔ان ویڈیوز اور تصاویر میں ایک بلی پر تشدد کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔یہ مواد اینمل ریسکیو سنٹر کے واٹس ایپ نمبر پر بھیجا گیا تھا، جس پر فوری کارروائی کی گئی۔
پولیس کا ایکشن:
اطلاع ملنے پر پولیس نے فوری طور پر خاتون خنسا کے گھر پر چھاپہ مارا۔
چھاپے کے دوران، درج ذیل جانور نازک حالت میں پائے گئے:
8 خرگوش
2 بلی کے بچے
7 کبوتر
1 مرغی
3 بطخ کے بچے
ان میں سے ایک کبوتر اور ایک بلی کا بچہ زخمی حالت میں پایا گیا۔اس کے علاوہ پولیس نے ایک سانپ، شکرا (falcon) اور ایگل (عقاب) کو بھی خاتون کے گھر سے برآمد کر کے قبضے میں لے لیا۔
جانوروں کی حفاظت:
تمام جانوروں کو محکمہ وائلڈ لائف کے انسپکٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ان کا مناسب علاج اور دیکھ بھال کی جا سکے۔
قانونی پس منظر:
مقدمے میں جانوروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق قوانین کا اطلاق کیا گیا ہے، جن میں Prevention of Cruelty to Animals Act شامل ہے۔اگر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو خاتون کو قانونی طور پر سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں جرمانہ یا قید کی سزا شامل ہو سکتی ہے۔