کل ہونے والا نایاب واقعہ جو 10 سالوں میں صرف ایک بار ہوتا ہے

کل ہونے والا نایاب واقعہ جو 10 سالوں میں صرف ایک بار ہوتا ہے

کل یعنی 12 جنوری کو ایک نایاب واقعہ پیش آئے گا جس کا مشاہدہ 10 سالوں میں صرف ایک بار ممکن ہے۔

 ماہرین کے مطابق ایک خلائی چٹان، جس کا نام ایلنڈا ہے، زمین کے قریب سے گزرے گی۔ یہ چٹان تقریباً 4.2 کلومیٹر چوڑی ہے اور اس کی چوڑائی امریکی شہر مین ہیٹن کے برابر ہے۔ ایلنڈا چٹان زمین سے تقریباً 7.6 ملین میل کے فاصلے پر گزرے گی، جو کہ زمین اور چاند کے درمیان اوسط فاصلے سے تقریباً 32 گنا زیادہ ہے۔یہ واقعہ اس قدر نایاب ہے کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے بعد 2087 تک زمین کے قریب اس طرح کی چٹانیں نظر نہیں آئیں گی۔ اس سیارچے کا سائز اتنا بڑا ہے کہ اگر یہ زمین سے ٹکرا جاتا تو یہ بڑے پیمانے پر جانداروں کی معدومیت کا باعث بن سکتا تھا۔

اس سیارچے کو اتوار کو 9.4 کی شدت سے چمک پیدا کرتے ہوئے دیکھا جا سکے گا، مگر یہ اتنی زیادہ روشن نہیں ہوگی کہ آنکھ سے دیکھا جا سکے۔ تاہم خلا کے مخصوص دوربینوں کے ذریعے اس کا مشاہدہ ممکن ہوگا۔ یہ واقعہ ایک منفرد فلکیاتی منظر ہوگا جس کا مشاہدہ لوگ دوربین یا لائیو اسٹریم کے ذریعے کر سکیں گے۔