نقصان کا ابتدائی تخمینہ 150ارب ڈالر،ٹرمپ نے بائیڈن کو ذمہ دار قرار دیدیا
14 ہزار فائر فائٹر آگ بجھانے میں مصروف ، 400 قیدی طلب،عطیات جمع
لاس اینجلس (مانیٹرنگ ڈیسک) لاس اینجلس کے جنگل میں لگنے والی آگ روز بروز بے قابو ہو رہی ، آتشزدگی نے پورے محلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ،مزید ہزاروں افراد کو بے گھر کر دیا،امریکی حکام کے مطابق اب تک کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے،دوسری جانب حکومت نے امدادی کاموں میں مدد کیلئے نیشنل گارڈ کو بھی طلب کر لیا،امریکی میڈیا کے مطابق لاس اینجلس میں آگ سے نقصان کا ابتدائی تخمینہ 150ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ادھر نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ نے لاس اینجلس کے جنگل میں لگنے والی آگ کا ذمہ دار بائیڈن انتظامیہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ان کی نا اہلی کی وجہ سے ہوا۔امریکی صدر بائیڈن نے آگ لگنے سے ہونے والی تباہی پر اگلے چھ ماہ تک 100 فیصد اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق 14 ہزار فائر فائٹر آگ بجھانے میں مصروف ہیں جبکہ 400 قیدی بھی امدادی کاموں کیلئے طلب کر لئے گئے ،علاوہ ازیں امریکی شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر عطیات جمع کئے جا رہے۔