جن علاقوں میں کم کارڈیشین، پیرس ہلٹن، انتھونی ہاپکنز اور بلی کرسٹل جیسی مشہور شخصیات کے گھرتھے اب وہاں ویرانی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں
آگ سے متاثرعلاقے دیکھ کر ایسا لگتا ہے ان علاقوں پر ایٹم بم گرایا گیا ہو‘ آگ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے:شیرف رابرٹ لونا
نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس کے جنگل میں لگنے والی آگ پرقابو نہ پایا جا سکا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق جنگل میں خوفناک آتشزدگی سے ہلاکت خیزی کو دیکھتے ہوئے نیشنل گارڈ کو بھی طلب کریا گیا۔صرف پیسیفک پیلیسیڈس میں آگ نے تقریباً 20 ہزار ایکڑ جنگلات کو جلا کر بھسم کردیا‘ الٹاڈینا کے آس پاس ایک اور آگ نے 13 ہزار 700 ایکڑ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا‘ کلاباساس اور امیر پوشیدہ ہلز انکلیو کے قریب بھی آگ بھڑک اٹھی جو دنیا کی سب سے مہنگی پراپرٹی کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ان علاقوں میں کم کارڈیشین، پیرس ہلٹن، انتھونی ہاپکنز اور بلی کرسٹل جیسی مشہور شخصیات کے گھر ہیں اب جہاں ویرانی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔کینتھ فائر چند گھنٹوں کے اندر تقریباً ایک ہزار ایکڑ تک پھیل گئی۔ اب تک مجموعی طور پر ان علاقوں سے ایک لاکھ 80 ہزار افراد بے گھر ہوگئے۔آگ بجھانے کے لیے درجنوں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں اور عملہ چوبیس گھنٹے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں‘لاس اینجلس کے شیرف رابرٹ لونا نے میڈیا سے گفتگو میں کہا آگ سے متاثرعلاقے دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ان علاقوں پر ایٹم بم گرایا گیا ہو۔ مجھے آگ سے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ جس پیمانے پر تباہی ہوئی ہے وہ پریشان کن ہے اور اس میں کسی اچھی خبر کی توقع نہیں ہے۔ آگ بجھانے والے ورکرزکو تیز ہواں کے سبب مختلف علاقوں میں پھیلی آگ پر قابو میں مشکلات کا سامنا ہے۔ آگ سے متاثرہ اور ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کو آلودہ ہوا اور دھوئیں کے خطرات کا بھی سامنا ہے‘ آگ سے معروف اداکار جیمز ووڈ کا گھر بھی جل کر خاکستر ہوگیا۔وہ سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے رو پڑے‘ متعدد صارفین نے جیمز کو وہ وقت یاد دلایا جب وہ اسرائیل کی غزہ میں کی جانے والی نسل کشی کی حمایت کر رہے تھے۔عبداللہ نامی ایک صارف نے لکھا جیمز ووڈ جن کا گھر لاس اینجلس میں لگنے والی آگ میں جل گیا، اب وہ عملی طور پر غزہ کے فلسطینیوں کے دکھ اور درد کو سمجھ سکیں گے جنہوں نے اسرائیل کی حمایت میں فلسطینیوں کو قتل کرنے کا مطالبہ کیا تھا