شہری کو زنجیروں سے باندھ کر تشدد، چوکی انچارج ، محر ر پر مقدمہ

مختار احمدپر چوری کا الزام کوئی کریمنل ریکارڈ نہیں، 5دن حراست میں رکھا گیا،زنجیروں سے چارپائی کے ساتھ باندھ کر تشدد کیا گیا
 آئی جی کا سخت نوٹس،اے ایس پی آپریشنز کاہنہ آغا فصیح رحمن کو ہٹا کرسنٹرل پولیس آفس کلوز کردیا گیا ،ایس ایچ او تھانہ کاہنہ اسد عباس معطل 
لاہور(کرائم رپورٹر) ماڈل ٹاؤن ڈویژن کی پولیس چوکی لکھوکی میں ایک شہری کو زنجیروں سے باندھ کر چارپائی کے ساتھ باندھنے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید تشویش پھیل گئی ، آئی جی نے نوٹس لے لیا ،پولیس ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ویڈیو تین روز پرانی ہیشہری کو زنجیروں سے باندھنے کا حکم چوکی انچارج عدنان ورک نے دیا تھا۔ اس دوران شہری کو زنجیروں سے باندھ کر چارپائی کے ساتھ باندھ دیا گیا، اور کہا جا رہا ہے کہ شہریوں کو اسی طرح باندھ کر تشدد بھی کیا جاتا ہیزنجیروں میں بندھے ہوئے شہری کی شناخت مختار احمد کے نام سے ہوئی ہے، جو کہ کیرکا گاؤں کا رہائشی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق مختار احمد کو گزشتہ پانچ روز سے حراست میں رکھا گیا تھا اور اسے زنجیروں میں باندھ کر رکھا گیاذرائع کے مطابق مختار احمد پر چوری کا الزام ہے، تاہم اب تک اس کا کوئی کریمنل ریکارڈ سامنے نہیں آیا۔پولیس چوکی لکھوکی میں ملزم کو غیر قانونی طور پر زیرِ حراست رکھنے کے معاملے پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا آئی جی پنجاب عبدالکریم نے سخت نوٹس لیتے ہوئے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت فوری کارروائی کا حکم دے دیاترجمان پنجاب پولیس کے مطابق اے ایس پی آپریشنز کاہنہ آغا فصیح رحمن کو عہدے سے ہٹا کر سنٹرل پولیس آفس کلوز کر دیا گیا ہے، جبکہ ایس ایچ او تھانہ کاہنہ اسد عباس کو معطل کر دیا گیا ہیترجمان نے بتایا کہ آئی جی پنجاب کی ہدایت پر چوکی انچارج لکھوکی عدنان ورک اور محرر محمد اظہر کے خلاف تھانہ کاہنہ میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ واقعے کی مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہیآئی جی پنجاب عبدالکریم کا کہنا ہے کہ شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور اختیارات سے تجاوز کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، پولیس میں قانون شکنی پر زیرو ٹالرنس ہو گی اور ملوث اہلکاروں کو سخت سزا دی جائے گی۔