مارچ میں بسنت کی دوبارہ رونقیں سجنے کی امید:عقیل ملک

مارچ میں بسنت کی دوبارہ رونقیں سجنے کی امید:عقیل ملک

آل پاکستان پتنگ بازی ایسوسی ایشن نے بسنت کے کامیاب اور محفوظ انعقاد کے بعد آئندہ مارچ میں ایک بار پھر بسنت منانے کی امید ظاہر کر دی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرپرست اعلیٰ عقیل ملک نے کہا کہ بسنت کے کامیاب انعقاد نے نہ صرف لاہور کے کھوئے ہوئے ثقافتی تہوار کو دوبارہ زندہ کیا بلکہ شہر میں 20 ارب روپے سے زائد کی اقتصادی سرگرمی بھی پیدا ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ 10 سے 70 سال تک کے شہریوں نے بھرپور انداز میں حصہ لیا اور اس کامیابی کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی حمایت کو جاتا ہے۔عقیل ملک کے مطابق بسنت صرف ثقافتی جشن نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی محرک بھی ثابت ہوا۔ تہوار کے دوران کاروباروں نے 20 ارب روپے سے زائد کا ٹرن اوور کیا جبکہ دکانداروں، ٹرانسپورٹ سروسز اور چھوٹے تاجروں کو نمایاں فائدہ پہنچا۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 9 لاکھ گاڑیاں مختلف شہروں سے لاہور آئیں جبکہ 2 لاکھ شہریوں نے اورنج لائن، میٹرو بس اور دیگر سروسز پر مفت سفر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کے باعث کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا اور موٹر سائیکلوں پر حفاظتی راڈز مؤثر ثابت ہوئیں۔ تاہم انہوں نے بانس، کاغذ اور پتنگوں کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کھلی منافع خوری قرار دیا۔ ان کے مطابق کرایے جو پہلے 3 ہزار روپے تھے، بسنت کے دوران 35 ہزار روپے تک وصول کیے گئے۔عقیل ملک کا کہنا تھا کہ آئندہ سال پورے پنجاب میں بسنت منانے کا ارادہ ہے اور پتنگوں و ڈور کے سرکاری نرخ مقرر کیے جائیں گے تاکہ استحصال روکا جا سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے مارچ میں بسنت دوبارہ منائی جائے گی اور مزید بہتر ضابطہ کاری کے ساتھ حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں گے۔